ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

پی ڈی پی سےاتحاد کا فیصلہ غلط تھا، اس لئے الگ ہوگئے: سدھانشوترویدی

دوسری جانب 'چوپال' پروگرام میں بولتے ہوئے بی جے پی کے سینئرلیڈررام مادھونے پی ڈی پی سے اتحاد کو صحیح قراردیا۔

  • Share this:
پی ڈی پی سےاتحاد کا فیصلہ غلط تھا، اس لئے الگ ہوگئے: سدھانشوترویدی
سدھانشو ترویدی نیوز 18 انڈیا کے پروگرام 'چوپال' میں۔

بی جے پی ترجمان سدھانشو ترویدی نے نیوز 18 انڈیا کے پروگرام 'چوپال' میں کہا کہ پی ڈی پی کے ساتھ کشمیرمیں اتحاد کافیصلہ غلط تھا اوراس لئے ہی ہم الگ ہوگئے۔ ترویدی نے آگے کہا کہ نینداڑنے کی بات وہ کرتے ہیں کہ جس نے خود اسٹیج سے 'کمبھ کرن یوجنا' بول دیا تھا، جو خود بیرون ممالک میں چھٹی مناتے ہیں، جنہوں نے چاردہائی 'راج' کیا وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ساڑھے چارسال میں ملک کی نیند اڑادی۔ حالانکہ اسی پروگرام میں بولتے ہوئے بی جے پی کے سینئرلیڈر رام مادھو نے پی ڈی پی سے اتحاد کو صحیح ٹھہرایا۔


سدھانشو ترویدی نے مزید کہا کہ آج ہندوستان چھٹی سب سے بڑی اقتصادی معیشت  ہے، آئی ایم ایف نے سب سے تیز بڑھتی ہوئی معیشت  بنادیا۔ موڈیز نے ریٹنگ بڑھا دی ہے۔ 32 کروڑ روپئے کھاتے کھولے ہیں، صفائی کی سطح 97 فیصد پہنچ گیا ہے۔ ترویدی نے الزام لگایا کہ پاکستان سے آئے ہندو- سکھ پناہ گزینوں کے لئے قانون نہیں بنا، لیکن روہنگیا کے لئے ان کا دل روتا ہے۔


اسمبلی الیکشن میں ہندتوا کے سوال پرانہوں نے کہا کہ راہل گاندھی خود کو  'شیو بھکت' بتاتے ہیں۔ کمل ناتھ 90 فیصد مسلمانوں کا ووٹ مانگتے ہیں اورسی پی جوشی ذات پات کی بات کرتے ہیں، یہی کانگریس کا اصلی چہرہ ہے۔


رافیل پرترویدی نے کہا کہ کانگریس جھوٹ کی تشہیرکررہی ہے، ان کے علاوہ سب غلط ہیں، سپریم کورٹ بھی غلط ہیں۔ یہ جے پی سی کی مانگ کررہے ہیں، لیکن یہ فرانس - ہندوستان کا معاہدہ ہے، پارلیمنٹ کو اختیارہی نہیں ہے کہ فرانس کے وزیردفاع کو طلب کرسکے۔ مارچ 2010 میں کانگریس کے وزیردفاع نے خود کہا تھا کہ ایچ اے ایل کسی بھی معاہدہ کے لائق نہیں ہے۔ رافیل کا معاملہ چوری کا نہیں کمیشن خوری کا ہے، بس کانگریس سمجھنا ہی نہیں چاہتی ہے۔ رافیل کے معاملے میں کانگریس کو چاربارجھٹکا لگ چکا ہے، لیکن اس کے سمجھ میں نہیں آئے گا۔
First published: Dec 19, 2018 05:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading