உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ کا رام مندرکی تعمیرکا مطالبہ، حکومت کے دباومیں سخت اضافہ

    فائل فوٹو

    فائل فوٹو

    بی جے پی نے پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کی آج یہاں پارلیمنٹ کی لائبریری میں راجناتھ سنگھ کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں ممبران نے کہا کہ مندرکی تعمیرکے سلسلے میں عوام کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اراکین پارلیمنٹ نے اجودھیا میں رام مندر کی تعمیرکا مطالبہ کرکے حکومت پردباؤ بڑھا دیا ہے۔ بی جے پی نے پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کی آج یہاں پارلیمنٹ کی لائبریری کے جی ایم سی بال یوگی آڈیٹوریم میں ہوئی ہفتے کی میٹنگ میں یہ معاملہ اٹھایا۔ میٹنگ میں وزیراعظم نریندرمودی اور بی جے پی صدردونوں ہی شہر کے باہر ہونے کی وجہ سے موجود نہیں تھے۔
      ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ کی صدارت وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کی۔ میٹنگ کے اختتام پر راجناتھ سنگھ کی تقریرکے دوران کچھ اراکین پارلیمنٹ نے سوال کیا کہ اجودھیا میں مندرکی تعمیر کے سلسلے میں حکومت کیا کرنے جا رہی ہے۔ مندرکی تعمیرکے سلسلے میں عوام کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ حالانکہ انہوں نے اس کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔
      راجناتھ سنگھ نے کہا کہ یقیناً مندر بننا چاہئے اور ضرور بنے گا۔ اس کے بعد انہوں نے تقریر ختم کردی۔ 
      ذرائع کے مطابق انہوں نے اپنے اختتامی تقریرمیں کہا کہ بی جے پی کا حوصلہ بلند ہے اوراپوزیشن حوصلے پست ہیں اسی لئے وہ پارلیمنٹ میں رخنہ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو کام کرنا ہے اور اسی کے ساتھ اپوزیشن کو بے نقاب کرنا ہے۔

      ذرائع نے بتایا کہ پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں راجیہ سبھا میں بی جے پی کے ڈپٹی لیڈراورقانون اورانصاف کے مرکزی وزیر روی شنکر پرسادنے رافیل کے پورے معاملے، تین طلاق پر قدغن لگانے والے بل اور 1984 کے دہلی سکھ مخالف فسادات کی دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کی مکمل تفصیلات دیں۔ بل کومنظور کرانے کے لئے اراکین سے پارلیمنٹ میں موجود رہنے کی گزارش کی۔
      First published: