ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

گورنرستیہ پال ملک جموں وکشمیر کا وزیراعلیٰ بننے کا شوق رکھتے ہیں: بی جے پی کے باغی لیڈرنے کیا انکشاف

گگن بھگت کے مطابق بی جے پی والے پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اورکانگریس کےعظیم اتحاد سے خوفزدہ ہوگئے تھے اورانہوں نے دہلی فون کرکے بتایا کہ ہمیں کسی طرح بچالواورنتیجتاً اسمبلی کواچانک اورفوراً تحلیل کیا گیا۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 04, 2018 05:44 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
گورنرستیہ پال ملک جموں وکشمیر کا وزیراعلیٰ بننے کا شوق رکھتے ہیں: بی جے پی کے باغی لیڈرنے کیا انکشاف
گورنر ستیہ پال ملک: فائل فوٹو

سری نگر:  جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو تحلیل کئے جانے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے والے بی جے پی کے باغی لیڈرڈاکٹر گگن بھگت کا کہنا ہے کہ ریاستی گورنرستیہ پال ملک ریاست کا وزیر اعلیٰ بننے کا شوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنرموصوف کے پاس اسمبلی کو تحلیل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا اور اُن کی طرف سے پیش کی گئی وجوہات کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

گگن بھگت نے کہا کہ گورنر ستیہ پال ملک کہتے ہیں کہ جس دن پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کے لئے مکتوب فیکس کرنے کی کوشش کی تھی، اس دن عید میلاد النبیؐ ہونے کے باعث راج بھون کے رسوئی گھرکے تمام ملازم چھٹی پرتھے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ تین دہائیوں سے راج بھون کے رسوئی گھر میں کوئی مسلم رسوئیہ نہیں ہے۔


انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی والے پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اورکانگریس کےعظیم اتحاد سے ڈرگئے تھے اورانہوں نے دہلی فون کرکے بتایا کہ ہمیں کسی طرح بچالو اورنتیجتاً اسمبلی کواچانک اورفوراً تحلیل کیا گیا۔ گگن بھگت جنہوں نے ریاستی اسمبلی کو اچانک تحلیل کرنے کے خلاف گذشتہ روزسپریم کورٹ میں عرضی دائر کی، نے جموں میں نامہ نگاروں کو بتایا 'مجھے لگتا ہے کہ انہیں (گورنرکو) وزیر اعلیٰ بننے کا کافی شوق ہے۔ وہ تو ایک سیاستداں رہے ہیں۔ انہوں نے تین چارجماعتیں بھی بدلی ہیں۔ پہلے کانگریس میں رہے، پھرسماج وادی پارٹی، پھر بی جے پی۔ ان کی بیان بازی سے تو لگتا ہے کہ وہ جموں وکشمیر کے حکومتی معاملات چلانے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں'۔



انہوں نے کہا 'اگروہ کہتے ہیں کہ فیکس یا سوشل میڈیا پرحکومتیں نہیں بنتی ہیں، توانہیں انتظارکرنا چاہئے تھا۔ انہیں فلور ٹیسٹ کرانا چاہئے تھا۔ آپ نے تو15 منٹ بھی نہیں لئے اسمبلی کو تحلیل کرنے میں ۔ پھراگلے روزکہتے ہیں کہ راج بھون میں رسوئیہ بھی نہیں تھا۔ جموں کے راج بھون میں گزشتہ 30 برس سے کوئی مسلم رسوئیہ نہیں ہے۔ میں یہ جانکاری رکھتا ہوں۔ عید کے دن ہندورسوئیہ چھٹی پرکیوں جائے گا؟ آپ بول رہے ہیں کہ فیکس مشین خراب تھی، یہ زمانہ ای میل کا ہے۔ ان کوای میل بھی بھیجا گیا تھا'۔
گگن بھگت کے مطابق بی جے پی تین جماعتوں کے عظیم اتحاد سے خوفزدہ ہوگئی تھی۔ ان کا کہنا ہے 'جوگرینڈ الائنس یہاں بننے جارہا تھا، تو کہیں نہ کہیں بی جے پی کو لگا کہ ہمارا وزیراعلیٰ نہیں بنے گا۔ ڈرنے کی کیا ضرورت تھی؟ حکومت کو اچھا کام کرنے پرمجبور کرنے کے لئے ایک بہترین اپوزیشن تھی۔ شاید یہاں پرجولیڈربیٹھے ہوئے ہیں، وہ ڈرگئے تھے۔ انہوں نے مرکز کو بتایا کہ بھئی ہمیں بچالو نہیں تو یہ عظیم اتحاد ہمیں ماردے گا'۔ 


بی جے پی کے باغی لیڈرنے کہا کہ گورنرکی جانب سے اسمبلی کوتحلیل کرنا آئین کے مطابق صحیح فیصلہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا 'گورنرکا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی اپنا یا غیرنہیں ہوتا۔ انہیں سیاست سے اوپراٹھ کرکام کرنا چاہئے۔ میں سپریم کورٹ جانے پراس لئے مجبورہوگیا کیونکہ پانچ ماہ تک اسمبلی کو معطلی کی حالت میں رکھا گیا تھا۔ جب پانچ ماہ کے بعد کوئی حکومت تشکیل دینے کے لئے سامنے آگیا توان کا فیکس خراب ہوگیا۔ آپ کو اتنی جلدی کیا تھی کہ آپ نے 15 منٹ کے اندراسمبلی تحلیل کردی'۔
واضح رہے کہ گورنرستیہ پال ملک نہ 21 نومبرکی شام ریاستی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا حکم نامہ اُس وقت جاری کیا جب ان کے پاس پی ڈی پی صدرمحبوبہ مفتی جنہیں نیشنل کانفرنس اورکانگریس کی حمایت حاصل ہوگئی تھی، کا مکتوب پہنچا تھا، جس میں ریاست میں حکومت تشکیل دینے کا دعویٰ پیش کیا گیا تھا۔ گورنرکو بی جے پی کے حمایت یافتہ پیپلز کانفرنس کے سربراہ سجاد غنی لون کا بھی مکتوب پہنچا تھا۔ سجاد لون نے اپنے مکتوب میں کہا تھا کہ انہیں بی جے پی کے ساتھ ساتھ 18 دیگرممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔


یہ بھی پڑھیں:   جموں وکشمیر: سجاد لون نے کیا ٹوئٹ، "گورنرحد میں رہیں، ریاست میں نئے تنازعات نہ تلاش کریں"۔

First published: Dec 04, 2018 05:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading