ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بی جے پی نے بجٹ کوبتایا سرجیل اسٹرائیک، اپوزیشن کی نظرمیں جھوٹ کی ٹوکری

لالو پرساد یادونے ٹوئٹ کیا کہ جھوٹ کی ٹوکری جملوں کے بازارمیں سجانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لوگ اب جملےسنتے ہی نہیں بلکہ سمجھتے بھی ہیں۔ سمجھ کرمسکراتے ہی نہیں بلکہ ٹھہاکا بھی لگاتے ہیں۔ 'آخری جملہ بجٹ'۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 01, 2019 09:58 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بی جے پی نے بجٹ کوبتایا سرجیل اسٹرائیک، اپوزیشن کی نظرمیں جھوٹ کی ٹوکری
نیوز 18 کی تخلیق۔

پٹنہ: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کوجہاں سرجیکل اسٹرائیک جیسا بتایا، وہیں اپوزیشن نے اسے جھوٹ کا پلندہ قراردیا۔ بی جے پی کے سنیئراوربہارکے نائب وزیراعلیٰ سشیل کمارمودی نے آج مالی سال 2019-20 کے لئے پیش عام بجٹ پراپنے رد عمل میں اسے سرجیکل اسٹرائیک جیسا بتایا اورکہا کہ اس میں عام لوگوں کے لئے راحت سے اپوزیشن کی بولتی بند ہوگئی ہے۔


انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ہمہ گیر بجٹ میں کسانوں، مزدروں، غیرمنظم شعبوں کے کامگاروں اورمتوسط طبقہ کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ بہارجیسی ریاست کو ملے گا، جہاں 91 فیصد چھوٹے اورمتوسط کسان ہیں۔

وہیں راشٹریہ جنتادل ( آرجے ڈی )صدرلالو پرساد یادو کے آفیشیل ٹوئٹر ہینڈل پر ٹوئٹ کر کےکہا گیا کہ ”جھوٹ کی ٹوکری جملوں کے بازارمیں سجانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لوگ اب جملے سنتے ہی نہیں بلکہ سمجھتے بھی ہیں۔ سمجھ کرمسکراتے ہی نہیں بلکہ ٹھہاکا بھی لگاتے ہیں۔ آخر ی جملہ بجٹ“۔ 


عظیم اتحاد کی حلیف جماعت راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی )کے صدراورسابق مرکزی وزیراوپندرکشواہا نے نریندرمودی حکومت کی عبوری بجٹ کو ان کا آخری بجٹ بتایا اور کہا ہے کہ بجٹ نوجوان مخالف اورکسانوں کو گمراہ کرنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں غریب بچوں کومعیاری تعلیم دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ ساتھ ہی نہ تو روزگارکے مواقع پید اکرنے کا کوئی نظم ہے اورنہ ہی کسانوں کو فائدہ مند قیمت دلانے کیلئے زرعی پیداوارپرمبنی صنعت کی لگانے کا کوئی نظم کیا گیا ہے۔
اوپیندرکشواہا نے کہا کہ موجودہ مودی حکومت کا یہ بجٹ آخری بجٹ ہوگا کیونکہ اس میں ملک کی 95 فیصد آبادی والے درج فہرست ذات، قبائل اوردیگر پسماندہ طبقات، اقلیت، استحصال زدہ، محروم اورغریب لوگوں کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزکی مودی حکومت کا یہ آخری جملہ ثابت ہوگا۔
وہیں آرجے ڈی کے ریاستی ترجمان چترنجن گگن نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بجٹ کے نام پر صرف جملے بازی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو امید تھی کہ بجٹ میں گذشتہ 56 مہینوں میں ملک کی عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے گا، لیکن بجٹ میں آئندہ انتخاب کو دیکھتے ہوئے پہلے ہی کی طرح صرف جملے بازی کی گئی ہے ۔ 


کانگریس قانون ساز اسمبلی کے لیڈرسدانند سنگھ نے کہاکہ مودی حکومت نے پانچ سال کے زخموں پرمرہم لگانے والا انتخابی بجٹ پیش کیا ہے، جوایک چھلاوا ہے۔ کیونکہ اس بجٹ کی میعاد صرف تین مہینے ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے پچھلے پانچ مکمل بجٹوں سے ملک کے باشندوں کو رولانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ اب انتخابی سال میں پرکشش عبوری بجٹ کی اصلیت بہت جلد عوام کے سامنے آجائے گی۔ اس بجٹ میں نوجوانوں، بے روزگاروں کے لئے جملے کےعلاوہ کچھ نہیں ہے۔
سدا نند سنگھ نے کہاکہ ریل بجٹ کے نام پر ملک کے باشندوں کو مایوس کیا گیا ہے ۔ وزیراعظم کسان منصوبہ صرف لالی پاپ ہے کیونکہ اس سے مستفید کسانوں کوصرف 17 روپئے روزانہ کی ہی مدد ملے گی، یہ کسانوں کو ٹھگنے کا کام ہے۔ انکم ٹیکس سلیب بھی وہی پراناہے اس کے علاوہ دیہی بجلی کاری، وزیر اعظم رہائش منصوبہ، ایل ای ڈی بلب تقسیم، کام کررہے ایمس کے اعدادو شمار قابل اعتماد نہیں ہیں۔ 


بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر مدن موہن جھا نے بجٹ کو بے سمت بتایا اورکہا کہ مدھیہ پردیش، راجستھان اورچھتیس گرھ اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کوبری طرح شکت کا سامنا کرنا پڑا اوراب مرکزکی بی جے پی حکومت کی مدت کارختم ہو رہی ہے۔ اس لئے بجٹ میں کسانوں، طلباء، نوجوانوں اورمزدروں کو لبھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی ( مارکسودی ۔ لینن وادی) کے ریاستی سکریٹری کنال نے کہا کہ یہ بجٹ ملک کے تحریک کرنے والے مزدروں، کسانوں، بے روزگاروں، اسکیم ورکروں کے ساتھ چھلاوا ہے۔ اس میں دوہیکٹریعنی پانچ ایکڑزمین والے کسانوں کو 6000 روپئے سالانہ گرانٹ کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جبکہ ملک کے کسان لاگت قیمت کے دیڑھ گنا قیمت اور تمام قرضوں کی معافی پرطویل عرصے سے تحریک کررہے ہیں۔ بجٹ میں اس کی شدید اندیکھی کرکے مودی حکومت نے اپنے کسان مخالف کردارکا ثبوت پیش کیا ہے۔

کنال نے کہا کہ عبوری بجٹ میں غیرمنظم شعبہ کے کامگاروں کو پینشن دینے کی بات بھی محض چھلاوا ہے۔ اس منصوبہ کی حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی مزدوراٹھارہ سال کی عمرسے فی ماہ 55 روپئے اور28 سال کے بعد فی ماہ جب 100 روپئے جمع کرے گا، تب 60  سال کی عمرمیں جاکرحکومت اسے تین ہزارروپئے پنشن دے گی، یہ بدترین مزاق ہے۔
آل انڈیا پولیس گولینٹری میڈلاوارڈیج ویلفیئر ایسوسی ایشن نے کہا کہ عام بجٹ میں فوجیوں کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، جو ملک کی حفاظت کے مفاد میں قابل قدر قدم ہے۔ تاہم  بجٹ میں نیم فوجی دستوں اور پولیس ملازمین کوراغب کرنے والے فلاحی منصوبہ اورامداد کا اعلان نہ کرنا قابل افسوس ہے۔ 
First published: Feb 01, 2019 09:58 PM IST