ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہندووں کی مبینہ نقل مکانی پر سیاسی جنگ تیز، بی جے پی کی ٹیم پہنچی کیرانہ

کیرانہ۔ اتر پردیش کے کیرانہ پر جاری سیاسی لڑائی تیز ہوتی جا رہی ہے۔ بی جے پی کی ایک ٹیم کیرانہ کا دورہ کرنے پہنچ گئی ہے۔

  • IBN Khabar
  • Last Updated: Jun 15, 2016 12:39 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہندووں کی مبینہ نقل مکانی پر سیاسی جنگ تیز، بی جے پی کی ٹیم پہنچی کیرانہ
کیرانہ۔ اتر پردیش کے کیرانہ پر جاری سیاسی لڑائی تیز ہوتی جا رہی ہے۔ بی جے پی کی ایک ٹیم کیرانہ کا دورہ کرنے پہنچ گئی ہے۔

کیرانہ۔ اتر پردیش کے کیرانہ پر جاری سیاسی لڑائی تیز ہوتی جا رہی ہے۔ بی جے پی کی ایک ٹیم کیرانہ کا دورہ کرنے پہنچ گئی ہے۔ یہ ٹیم کیرانہ سے ہندوؤں کی مبینہ نقل مکانی کی جانچ پڑتال کرے گی۔ 8 رکنی اس تفتیشی ٹیم کی قیادت بی جے پی لیڈرسریش کھنہ کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے بی جے پی رہنما حکم سنگھ نے 63 ناموں کی ایک فہرست جاری کی اور کہا کہ ان لوگوں کو کیرانہ کے کاندھلہ قصبے کو چھوڑ کر جانا پڑا۔


انہوں نے کہا کہ جو فہرست ان کی طرف سے جاری کی گئی ہے اس میں تمام لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نقل مکانی کرنے والے سارے لوگ ہندو کمیونٹی کے ہی ہیں، حالانکہ اس سے پہلے منگل کو حکم سنگھ نے کہا تھا کہ وہ کسی ایک کمیونٹی کے بارے میں نہیں کہہ رہے ہیں۔ بلکہ دونوں کمیونٹی کے لوگ قانون وانتظام کی صورت حال کو لے کر پریشان ہیں۔


حکم سنگھ نے انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہی ہے۔ اس سے پہلے حکم سنگھ نے 346 خاندانوں کی فہرست جاری کر کہا تھا کہ انہیں اس قصبے کو چھوڑنے پر مجبور کیا گیا جہاں 85 فیصد مسلم آبادی رہتی ہے۔ تاہم شاملی کے ضلع مجسٹریٹ سجيت کمار نے علاقے سے کچھ لوگوں کے گھر چھوڑنے کے پیچھے کسی طرح کی فرقہ وارانہ اور قانون وانتظام کی وجہ ماننے سے انکار کر دیا۔


انہوں نے کہا کہ اقتصادی وجوہات کے مدنظر لوگ قصبے سے گئے ہیں۔ اس درمیان بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے 63 لوگوں کی ایک اور فہرست جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی لسٹ پر اب بھی قائم ہیں اور وہ 59 لوگوں کی ایک اور لسٹ بنا رہے ہیں۔ وہیں یوپی کے وزیر اعلی اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ یوپی کا ماحول خراب کرنا چاہ رہے ہیں، کیونکہ وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہو گئے ہیں۔
First published: Jun 15, 2016 12:32 PM IST