உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی میں کانگریس اورعام آدمی پارٹی کی راہیں الگ الگ، مل سکتا ہے بی جے پی کو فائدہ

    شیلا دکشت اوراروند کیجریوال: تصویر: ڈی این اے انڈیا

    شیلا دکشت اوراروند کیجریوال: تصویر: ڈی این اے انڈیا

    عام آدمی پارٹی اورکانگریس لیڈروں کےاس بیان کے بعد اب دلی میں مقابلہ سہ رخی نظرآ رہا ہے۔ ماہرین اسے بی جے پی کے لئے فائدہ جبکہ عآپ اورکانگریس کےلئے نقصان کے طورپردیکھ رہے ہیں۔

    • Share this:
      عام آدمی پارٹی اورکانگریس کے درمیان آئندہ عام انتخابات میں ممکنہ اتحاد کی خبروں کو ختم کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی نے قومی دارالحکومت دلی اور پنجاب میں اکیلے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا۔ عام آدمی پارٹی نے یہ اعلان حال ہی میں دلی ریاستی کانگریس صدر کے عہدہ پر براجمان سینئرکانگریس لیڈراوردلی میں تین باروزیراعلیٰ رہ چکیں شیلا دکشت کے اس بیان کے بعد کیا جس میں انہوں نے عام آدمی پارٹی کو ایک چھوٹی پارٹی قراردیتے ہوئے اس کے ساتھ اتحاد کے امکانات کو سرے سےمسترد کردیا تھا۔

      شیلا دکشت نے کہا تھا کہ عآپ بہت چھوٹی پارٹی ہے۔ ایسی چھوٹی پارٹیاں آتی جاتی رہتی ہیں۔ شیلا دکشت نے کہا ’’کانگریس اکیلے الیکشن لڑنے میں اہل ہے۔ ہمیں کسی سے گٹھ بندھن کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ’’عام آدمی پارٹی کولےکرہمیں فکر کرنےکی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی پارٹی ہے, جس کا وجود صرف دلی میں ہی ہے۔ بقیہ ریاستوں میں عآپ کہیں بھی نہیں ہے۔ ایسی چھوٹی پارٹیاں آتی جاتی رہتی ہیں‘‘۔

      عام آدمی پارٹی اورکانگریس لیڈروں کےاس بیان کے بعد اب دلی میں مقابلہ سہ رخی نظرآ رہا ہے۔ ماہرین اسے بی جے پی کے لئے فائدہ جبکہ عآپ اورکانگریس کے لئے نقصان کے طور پردیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں پارٹیاں اتحاد کرکے بی جے پی کے لئے مشکل کھڑی کرسکتی تھیں جبکہ ایسا نہ کرکے وہ بی جے پی کوالیکشن میں ایک اچھا موقع دے رہی ہیں۔

      اگراعداد وشمارپرنظر ڈالیں تو2015 کےاسمبلی انتخابات میں عآپ کو 54 فیصدی ووٹ ملے تھے۔ تاہم، 2017 کے میونسپل انتخابات میں عآپ کا ووٹ فیصد گھٹ کر26 فیصد پرپہنچ گیا جبکہ بی جے پی کو37 فیصد ووٹ ملے تھے۔ وہیں، کانگریس کا ووٹ فیصد 10 فیصدی سے بڑھ کر21 فیصد ہوگیا تھا۔ اگرعآپ اورکانگریس مل کرانتخابات لڑتیں توبی جے پی کے لئے مشکل پیدا ہوسکتی تھی۔

      حالانکہ شیلا دکشت سے پہلے دلی کانگریس کے صدر اجےماکن کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ وہ عآپ اورکانگریس کے درمیان اتحاد کےحق میں نہیں ہیں اورجب انہوں نے صدر کےعہدہ سے استعفیٰ دیا تواس کے بارے میں یہی کہا جانے لگا کہ ان پراتحاد کا دباو تھا، جس کے لئے وہ قطعا راضی نہیں تھے۔ حالانکہ اجے ماکن نے کہا تھا کہ وہ صحت وجوہات سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔ پھرجب شیلا دکشت کو دلی کانگریس کی ذمہ داری دی گئی تواتحاد کی بات ایک بارپھرزورپکڑنے لگی۔ لیکن انہوں نے گزشتہ ہفتہ اتحاد کی بات کو یکسرمسترد کر دیا۔ اب عام آدمی پارٹی نے دلی، پنجاب اورہریانہ میں اکیلے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا ہے۔

      اس سے قبل گزشتہ سال 21 دسمبرکو جب دلی اسمبلی میں عآپ حکومت نے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی سے بھارت رتن واپس لینے کی تجویزمنظورکی، تبھی یہ کہا جانےلگا کہ آئندہ لوک سبھا الیکشن کے لئے مرکزکی مودی حکومت کے خلاف بن رہے عظیم اتحاد میں اتحادی کے طورپردیکھی جانے والی عام آدمی پارٹی نے اس تجویزکے ساتھ ہی کانگریس کے ساتھ دودوہاتھ کرنے کا من بنا لیا ہے۔ اس تجویزنےاتحاد کی بات کوپوری طرح سے بگاڑدیا تھا۔ دلی پردیش کانگریس کمیٹی کی صدرشیلا دکشت نےاس تجویزکی مخالفت کی تھی اورکہا تھا کہ دلی کی عام آدمی پارٹی بھروسے مند نہیں ہے۔

      حالانکہ دلی میں کانگریس کا صفایا عام آدمی پارٹی نے ہی کیا۔ لیکن 2017 کے میونسپل انتخابات میں کانگریس کا ووٹ فیصد بڑھنے جب کہ عآپ کا ووٹ فیصد کم ہونے کوکانگریس اپنے لئے ایک موقع کےطورپردیکھ رہی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ اب اس کی مقبولیت بڑھ رہی ہےاورمدھیہ پردیش، راجستھان اورچھتیس گڑھ جیسی ریاستوں میں شاندارجیت سے تواس کا حوصلہ اوربڑھ گیا ہے۔

      حالانکہ ماہرین کا یہی کہنا ہے کہ کانگریس کی بڑھتی مقبولیت کے باوجود اس کا عام آدمی پارٹی سے اتحاد دونوں ہی پارٹیوں کے لئے فائدہ کا سودا ثابت ہو سکتا تھا۔ ایسا کر کے بی جے پی مخالف ووٹوں کی تقسیم سے روکا جا سکتا تھا۔ دلی میں گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی نے ساتوں سیٹوں پرقبضہ کرلیا تھا۔ اسے ملک بھرمیں مودی لہرہونے کے فائدہ کے ساتھ ساتھ دلی میں عام آدمی پارٹی اورکانگریس کے الگ الگ الیکشن لڑنے کا فائدہ بھی ملا تھا۔ بی جے پی کو 46.40 فیصد، عام آدمی پارٹی کو 32.90 فیصد جبکہ کانگریس کو 15.10 فیصد ووٹ ملے تھے۔
      First published: