உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجناتھ اوریوگی کے سامنے لگے نعرے "رام مندرجوبنوائے گا، ووٹ اسی کوجائے گا"۔

    لکھنو میں منعقدہ یوا کمبھ کو خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ۔

    لکھنو میں منعقدہ یوا کمبھ کو خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ۔

    لکھنو میں منعقدہ یوا کمبھ میں یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ رام مندرجب بھی تعمیرہو، ہم ہی تعمیرکرائیں گے۔ وہیں راجناتھ سنگھ نے بھی مندرتعمیرکرنے کا عزم کیا۔

    • Share this:
      لکھنو میں یوا کمبھ کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک کے مختلف ریاستوں کے ہزاروں نوجوان شامل ہوئے اورانہوں نے رام مندرتعمیرکے مطالبے کولے کرجم کرنعرے بازی کی۔ گورنررام نائک، وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، مرکزی وزیرراجناتھ سنگھ سمیت سنگھ کے تمام سینئرعہدیداران نے یوا کمبھ کا افتتاح کیا۔ نوجوان پروگرام کے دوران مسلسل نعرے بازی کرتے رہے "مندرجو بنوائے گا، ووٹ اسی کو جائے گا"۔

      لکھنو میں منعقدہ یوا کمبھ میں وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ رام مندرجب بھی بنے گا، ہم ہی بنائیں گے۔ اختتامی سیشن میں مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے مندرتعمیر کئے جانے کے عزم کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ رام مندربن کرہی رہے گا۔ دنیا کی کوئی طاقت اسے نہیں روک سکتی۔

      غورطلب ہے کہ راجدھانی کے لکھنو واقع میموریل پارک میں لکھنو یونیورسٹی کے ذریعہ کمبھ کی اہمیت پرتبادلہ خیال کے لئے ایک یوا کمبھ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس میں راجستھان، ہریانہ، ہماچل اورآسام جیسے ریاستوں سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان پہنچے۔  اتناہی نہیں اس دوران راجناتھ سنگھ کو بھی رام مندرکی تعمیر کا مطالبہ کررہے نوجوانوں کی نعرے بازی کے سبب کچھ منٹ تک اپنی تقریرروکنی پڑی۔ حالانکہ پھر راجناتھ سنگھ نے نوجوانوں کے نعرے بازی کو دیکھتے ہوئے رام مندرتعمیرپراپنے عزم کا اظہار کیا۔



      یوا کمبھ کا افتتاح یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ، گورنررام نائک اوریوا کمبھ کے خصوصی مقرراورآرایس ایس کے اہم لیڈر ڈاکٹرکرشن گوپال نے کیا۔ اس کا اختتام سنگھ کے اہم لیڈر دتوترے ہوسبولے، وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ، مرکزی وزیراسمرتی ایرانی اوردونوں نائب وزرائے اعلیٰ کیشوپرساد موریہ اوردنیش شرما نے کیا۔

      اس دوران منعقدہ 4 سیشن میں مشہورفلم پروڈیوسر مدھربھنڈارکر، بھوجپوری فلم ادا کارروی کشن، مکے باز وجیندرسنگھ، اولمپک تمغہ فاتح سشیل کمارسمیت اہم شخصیات نے بھی یوا کمبھ کو خطاب کیا۔
      First published: