ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

Black Fungus & Covid-19: کووڈ۔19 مریضوں میں دوبارہ سر اٹھارہا ہے بلیک فنگس؟ کیوں ہے یہ مہلک؟ کیا ہے میوکورمیسیس؟

دہلی میں واقع سر گنگا رام اسپتال (Sir Ganga Ram Hospital) کے ڈاکٹروں نے دوبارہ کورونا وائرس سے وابستہ مریضوں میں مہلک بلیک فنگس انفیکشن کے اثرات کے متعدد کیسوں کی اطلاع دی ہے۔ کووڈ۔19 کے مریضوں میں پائے جانے والے بلیک فنگس کے انفیکشن نے پچھلے سال بہت سے مریضوں کی بینائی ختم کردی تھی۔

  • Share this:
Black Fungus & Covid-19: کووڈ۔19 مریضوں میں دوبارہ سر اٹھارہا ہے بلیک فنگس؟ کیوں ہے یہ مہلک؟ کیا ہے میوکورمیسیس؟
کووڈ۔19 مریضوں میں دوبارہ سر اٹھارہا ہے بلیک فنگس؟ کیوں ہے یہ مہلک؟ کیا ہے میوکورمیسیس؟

نئی دہلی : ہندوستان میں عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔19) کی شدت پورے عروج پر ہے۔ کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے روزانہ نئے کیسوں میں لگا تار اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دہلی میں واقع سر گنگا رام اسپتال (Sir Ganga Ram Hospital) کے ڈاکٹروں نے دوبارہ کورونا وائرس سے وابستہ مریضوں میں مہلک بلیک فنگس انفیکشن کے اثرات کے متعدد کیسوں کی اطلاع دی ہے۔ کووڈ۔19 کے مریضوں میں پائے جانے والے بلیک فنگس کے انفیکشن نے پچھلے سال بہت سے مریضوں کی بینائی ختم کردی تھی۔


ایس جی آر ایچ کے سینئر ای این ٹی سرجن ڈاکٹر منیش منجل (Dr Manish Munjal) کے مطابق اسپتال نے گذشتہ دو دنوں میں 6 افراد کو میوکورمیسیس (mucormycosis) کا انفیکشن ہوا تھا۔ جس کی وجہ وہ مزید بیمار ہوئے۔


ڈاکٹر منیش منجل نے بتایا کہ ’’ہم کووڈ۔19 کے ذریعہ پائے جانے والے اس خطرناک انفیکشن میں ایک بار پھر اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ پچھلے دو دنوں میں ہم نے بلیک فنگس کے چھ کیسوں کو رپورٹ کیا ہے۔ پچھلے سال اس مہلک انفیکشن کی وجہ سے بہت سے مریض آنکھوں کی بینائی، ناک اور جبڑے کی ہڈی کے شدید امراض میں مبتلا تھے‘‘۔


  • میوکورمیسیس کیا ہے؟


اسے زائگومیکوسیس (zygomycosis) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ سنٹر برائے تحفظ امراض اور روک تھام (Centre for Diseases Control and Prevention) کے مطابق یہ نایاب لیکن نہایت خطرناک انفیکشن سانچوں کے ایک گروہ (group of molds) کی وجہ سے ہوتا ہے جسے میوکورمیسیس (mucormycetes) کہا جاتا ہے۔

یہ سانچے ماحول میں قدرتی طور پر موجود ہیں۔ تاہم جب انسانی جسم کا قوت مدافعت کا نظام کمزور پڑتا ہے تو اس کا اثر انسانوں پر پڑتا ہے اور وہ شخص خطرے سے دوچار ہوجاتا ہے۔ یہ ہوا سے سانس لینے کے بعد پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ فنگس کھلے زخموں یا کٹوتیوں (open wounds or cuts) کے ذریعے بھی جسم میں داخل ہوسکتا ہے۔

سی ڈی سی نے گذشتہ سال کہا تھا کہ ’’یہ فنگس زیادہ تر لوگوں کے لئے نقصان دہ نہیں ہیں۔ تاہم ان لوگوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو گیا ہو۔ میوکورمیسیٹ (mucormycete) بیضوں میں سانس لینے سے پھیپھڑوں میں انفیکشن ہوسکتا ہے جو جسم کے دوسرے حصوں میں پھیل سکتا ہے‘‘۔

سی ڈی سی نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ میوکورمیسیس (mucormycetes) متعدی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ لوگوں اور جانوروں کے درمیان منتقل نہیں ہوسکتا ہے۔ سی ڈی سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ میوکورمیسیس کے مریضوں کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے ابتدائی شناخت، تشخیص اور مناسب اینٹی فنگل علاج کی فوری ضرورت اہم ہے۔


  • کون متاثر ہو سکتا ہے؟


سر گنگا رام اسپتال میں ای این ٹی کے چیئرمین ڈاکٹر اجے سوارپ کے مطابق کووڈ۔19 کے کمزور استثنیٰ والے مریض اس بلیک فنگل میکورمائکوسس بیماری سے متاثر ہوسکتے ہیں اور انھیں زیادہ خطرہ رہتا ہے۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: May 07, 2021 07:57 PM IST