ہوم » نیوز » No Category

یادیں یاد آتی ہیں، نئی نسل کی پذیرائی کی ایک نئی روایت: پروفیسرابن کنول

جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے تنویر احمد کی اس بات کے لیے ستائش کی کہ انھوں نے کتاب کو نہ صرف دیدہ بنایا ہے بلکہ سر ورق پر سبھی قلم کاروں کا نام شائع کر ایک نئی روایت قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Dec 05, 2016 11:08 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
یادیں یاد آتی ہیں، نئی نسل کی پذیرائی کی ایک نئی روایت:  پروفیسرابن کنول
جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے تنویر احمد کی اس بات کے لیے ستائش کی کہ انھوں نے کتاب کو نہ صرف دیدہ بنایا ہے بلکہ سر ورق پر سبھی قلم کاروں کا نام شائع کر ایک نئی روایت قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔

نئی دہلی۔ ’’یادیں یاد آتی ہیں‘ میں تنویر احمد نے نئی نسل کے مضامین کو یکجا کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی ایک نئی روایت کا آغاز کیا ہے۔ اس قدم کا استقبال کیا جانا چاہیے۔‘‘ ان خیالات کا اظہار شعبۂ اردو، دہلی یونیورسٹی کے صدر پروفیسر ابن کنول نے ’یادیں یاد آتی ہیں‘ کی رسم اجراء کے موقع پر کیا۔ غالب اکیڈمی میں منعقد تقریب رسم اجراء میں اپنا صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ ’’جو لوگ اُردو سے براہ راست وابستہ نہیں ہیں اور اردو کے لیے لکھ رہے ہیں اور کام کر رہے ہیں وہ اُردو والوں سے زیادہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہندوستان میں ایسے جانبازوں کی کمی نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی مزید کتابیں منظر عام پر آنی چاہئیں۔


پروگرام میں موجود سامعین کے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر شہپر رسول نے کتابوں کی اشاعت کو ایک واقعہ قرار دیا اور کہا کہ آج کے اس دور میں اس طرح کے کام کی خاطر خواہ پذیرائی ہونی چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’مرتب کے مطابق یہ کتاب ان دوستوں کے لیے ایک تحفہ ہے جن کے مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ اس دور میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو دوستوں کے لیے کچھ کر گزرتے ہیں اور میں ان میں تنویر احمد کو بھی شامل کرتا ہوں جنھوں نے اپنے اس خوبصورت کتاب سے ہمیں متاثر کیا ہے۔ ‘‘ اس موقع پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینئر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے تنویر احمد کی اس بات کے لیے ستائش کی کہ انھوں نے کتاب کو نہ صرف دیدہ بنایا ہے بلکہ سر ورق پر سبھی قلم کاروں کا نام شائع کر ایک نئی روایت قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’کسی کتاب کے سرورق پر سبھی قلم کاروں کا نام ہونا روایت سے ہٹ کر ضرور ہے لیکن ایک بہترین کوشش ہے۔ اگر لوگوں نے اس انداز کو پسند کر لیا اور یہ روایت چل پڑی تو تنویر احمد کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔‘‘


اس سے قبل کتاب کے مرتب تنویر احمد نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور تمام شرکا اور مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انھوں نے اپنی مختصر لیکن جامع تقریر میں کہا کہ ’’یہ تو میرے دوستوں کے مضامین کی دلکشی اور انداز تحریر تھا جس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیوں نہ اسے یکجا کر دیا جائے۔ میں نے ’یادیں یاد آتی ہیں‘ کے مقدمہ میں واضح لفظوں میں لکھ دیا ہے کہ ’دی سنڈے انڈین‘ میں ایک سیکشن تھا ’نو رَس‘ جس کے لیے ریسرچ اسکالرس سے مضامین میں ہی لکھواتا تھا میرے اوپر ان سبھی ریسرچ اسکالرس کے احسانات ہیں جنھوں نے میری ایک گزارش پر اپنے بیش قیمتی اوقات میری نذر کر دیے۔ اب ان کے احسانات کا بدلہ تو میں چکا نہیں سکتا تھا تو میں نے سوچا کہ انھیں ’تحفہ‘ ہی پیش کر دیا جائے۔ گویا کہ یہ میری طرف سے تحفہ ہے میرے دوستوں کے لیے۔


 پروگرام کی ابتدا قاری احسن جمال کے تلاوت کلام پاک سے ہوئی۔ اس موقع پر جدید لہجے کے معروف شاعر رئوف رضا اور اُردو دنیا کے بے حد مقبول شاعر بیکل اُتساہی کے انتقال کتابپر اظہار رنج و غم بھی کیا گیا اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے انھیں ایصال ثواب پیش کیا گیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض جناب انس فیضی نے بحسن و خوبی انجام دیے۔

First published: Dec 05, 2016 11:07 AM IST