உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہوشیار ہوجائیں ، بریڈ سے ہوسکتا ہے کینسر ، 84 فیصد نمونوں میں پایا گیا خطرناک کیمیائی مادہ

    نئی دہلی :  سینٹرفار سائنس اور ماحول کے ایک مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ شہروں میں تمام کھانے پینے کی عام عادتوں میں شامل ہوچکی بریڈ کو روزانہ کھانے سے کینسر ہوسکتا ہے۔

    نئی دہلی : سینٹرفار سائنس اور ماحول کے ایک مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ شہروں میں تمام کھانے پینے کی عام عادتوں میں شامل ہوچکی بریڈ کو روزانہ کھانے سے کینسر ہوسکتا ہے۔

    نئی دہلی : سینٹرفار سائنس اور ماحول کے ایک مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ شہروں میں تمام کھانے پینے کی عام عادتوں میں شامل ہوچکی بریڈ کو روزانہ کھانے سے کینسر ہوسکتا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی :  سینٹرفار سائنس اور ماحول کے ایک مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ شہروں میں تمام کھانے پینے کی عام عادتوں میں شامل ہوچکی بریڈ کو روزانہ کھانے سے کینسر ہوسکتا ہے۔ یہ جائزہ سی ایس آئی کی آلودگی نگرانی لیباریٹری نے لیا ہے۔ جائزہ  رپورٹ کے مطابق بریڈ بنانے کے دوران آٹے میں پوٹاشیم برومیٹ اور پوٹا شیم آیوڈیٹ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کئی ممالک میں یہ کیمیائی مادے صحت کے لئے نقصان دہ فہرست میں شامل ہیں اور بریڈ بنانے میں ان کے استعمال پر پابندی لگادی گئی ہے مگر ہندستان میں ان کاڈھڑے سے استعمال ہوتا ہے۔ ان میں ایک سے کینسر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے جب کہ دوسرے سے تھائیرائیڈ سے متعلق بیماری ہوسکتی ہے۔

      سی ایس آئی نے بتایا ہے کہ اس نے دہلی میں برنڈڈ بریڈ کی پیکٹ میں دستیاب 38 قسموں کی جانچ کی ہے۔ ان میں پائے اور بن، برگر بریڈ اور پزا بریڈ بھی شامل ہے۔ سی ایس آئی کے ڈپٹی ڈائرکٹر چندر بھوشن نے کہا 84 فیصد نمونوں میں پوٹاشیم برومیٹ اور پوٹاشیم آیو ڈیٹ پایاگیا کچھ نمونوں کی جانچ باہری لیباریٹریز میں بھی کرائی گئی جہاں ان میں ان ضرر رساں مادوں کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔

      مطالعہ میں بتایا گیا ہے کہ 38 میں سے 32 نمونوں میں پوٹاشیم برومیٹ آیوڈیٹ کی مقدار 1.15 سے 22.54 پی پی ایم پائی گئی ہے۔ بڑی کمپنیوں کی بریڈ کے 79 فیصد (24 میں سے 19) نمونوں میں ڈبل روٹی ۔ پاؤ ۔ بن اور کھانے کے لئے تیار پزا کے تمام نمونوں میں اور کھانے کے لئے تیاربرگر کے 75 فیصد (چار میں سے تین) نمونوں میں یہ ددونوں کیمیائی مادے ملے ہیں۔

      سی ایس آئی نے دعوی کیا ہے کہ سینیڈوچ بریڈ پاؤ۔ بن اور ڈبل روٹی میں تو ان کی مقدار کافی زیادہ پائی گئی ہے اور ڈبل روٹیوں میں پرفیکٹ بریڈ۔ ہارویسٹ گولڈ اور برطانیہ میں ان کی سطح کافی اونچی پائی گئی ہے۔ پرفیکٹ بریڈ واحد ایسی بریڈ ہے جو اپنے لیبل میں پوٹاشیم برومیٹ کی موجودگی کی بات تسلیم کرتی ہے کسی بھی برانڈ کے لیبل میں پوٹاشیم آیوڈیٹ کا ذکر نہیں تھا۔ سی ایس آئی نے کہا ہے کہ اس بابت رابطہ کئے جانے پر صرف برطانیہ نے دونوں کیمیائی مادوں کے استعمال سے انکار کیا ہے جب کہ دیگر نے ان کے استعمال کی بات قبول کی ہے۔

      مطالعہ میں میں گیا ہے کہ پزا اور برگر بیچنے والے پانچ غیر ملکی ریسٹورنٹ کے ایف سی۔ پزاہٹ، ڈومینوز، سب وے اور میک ڈونا لڈ کے تمام نمونوں میں یہ کیمیائی مادے پائے گئے۔ حالانکہ ڈومینوز کو چھوڑ کر باقی چار نے ان کے استعمال سے انکار کیا ہے۔ نیرولاز اور سلائس آف اٹلی کے نمونوں میں بھی یہ کیمیائی مادے پائے گئے ہیں۔ لیکن سلائس آف اٹلی نے کہا ہے کہ وہ ان کیمکل کو استعمال نہیں کرتی ۔

      سی ایس آئی نے سرکار سے پوٹاشیم برومیٹ پر پابندی لگانے اور غذائی سپلائی سلسلہ سے اسے پوری طرح ہٹانے کی مانگ کی ہے ساتھ ہی اس نے پیکٹوں پر لیبل اور سختبنانے کی بھی سفارش کی ہے۔ مسٹر بھوشن نے کہا بریڈ اور بیکری کی مصنوعات ہمارے روز مرہ کے کھانے کا حصہ بن چکے ہیں۔ بچے بہت زیادہ مقدار میں ان سے بنا کھانا کھاتے ہیں۔ ہم کینسر کے امکان والے اس کیمیکل کے کھانے میں استعمال سے چھٹکارہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ بریڈ صنعت کے لئے پوٹاشیم برومیٹ کا محفوظ متبادل دستیاب ہیں اور اسے اپنانے کا خرچ بھی معمولی ہے۔

      سی ایس آئی نے ہندوستانی غذائی تحفظ اور معیار اتھارٹی سے بریڈ کی تیاری میں فلور ٹریٹمنٹ ایجنٹ کے طور پر پوٹاشیم آیوڈیٹ کے استعمال کو بھی پابندی لگانے کی مانگ کی ہے۔ یوروپی یونین کے ملکوں ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں یہ ممنوع ہیں۔ مسٹر بھوشن نے کہا کہ ہندوستانی کھانے میں کافی مقدار میں آیوڈ ین کا استعمال کیا جاتاہے اور اس لئے بریڈ میں پوٹاشیم آیوڈیٹ کے استعمال سے اس میں آیوڈ ین کی سطح بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
      First published: