உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سندھو بارڈر پر کسانوں کے منچ کے پاس شخص کا بے رحمی سے قتل کرکے لاش کو لٹکایا

    Youtube Video

    کسانوں کے پلیٹ فارم کے قریب ایک نوجوان کے بہیمانہ قتل کے بعد ، ایک ہاتھ کاٹ دیا گیا اور لاش کو بیریکیڈ سے لٹکا دیا گیا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دہلی ہریانہ کے سنگھو بارڈر (Singhu Border) کسان گزشتہ کئی ماہ سے مرکزی حکومت کے تین نئے زرعی قوانین کے خلاف احتجاج (Kisaan Aandolanٌ) کر رہے ہیں۔ اس دوران سنگھو بارڈر پر ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے۔ کسانوں کے پلیٹ فارم کے قریب ایک نوجوان کے بہیمانہ قتل کے بعد ، ایک ہاتھ کاٹ دیا گیا اور لاش کو بیریکیڈ سے لٹکا دیا گیا جبکہ یہ واقعہ جمعرات کی رات کو پیش آیا۔ یہی نہیں نوجوان کی لاش 100 میٹر تک گھسیٹی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جب مشتعل افراد نے نوجوان کی نعش کو جمعہ کی صبح منچ کے قریب لٹکا ہوا دیکھا تو وہاں ہلچل مچ گئی۔

      یہی نہیں نوجوان کے جسم پر تیز دھار ہتھیار سے حملے کے نشانات ہیں۔ اس بیچ مشتعل افراد کا ایک ہجوم صبح سے جائے وقوعہ پر جمع ہو رہا ہے ۔ وہیں ساتھ ہی مشتعل ہجوم کنڈلی تھانہ پولیس کو بھی موقع پر آنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ اس وقت کسان جم کر ہنگامہ آرائی کر رہے ہیں۔ حالانکہ کچھ لوگ اس واقعہ کا الزام نہنگوں پر لگا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نوجوان پر گرو گرنتھ صاحب کی بے حرمتی کا الزام ہے۔

      پولیس سخت محنت کے بعد موقع پر پہنچی۔
      معلومات کے مطابق اس وقت ہنگامہ مچ گیا جب لاش سنگھو سرحد پر کسان مورچہ کے منچ کے قریب پائی گئی۔ لاش کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے ، پھر تیز دھار ہتھیار سے گردن پر حملے کے نشانات ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ،اس واقعہ کی اطلاع کے بعد ، کنڈلی پولیس اسٹیشن انچارج روی کمار سخت کوششوں کے بعد موقع پر پہنچ گئے ہیں اور لاش کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ فی الحال پولیس نے لاش کو اپنے قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: