உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بڑی خبر: دہلی میں ODD-EVEN، ویکینڈ کرفیو ختم، شادی تقاریب میں بھی دی جائے گی ڈھیل: ذرائع

    Delhi Corona News: ذرائع کی مانیں تو اس میٹنگ میں ویکینڈ کرفیو (Weekend Curfew) ، نائٹ کرفیو Delhi Night Curfew کو ہٹانے اور بازاروں میں طاق ODD-EVEN، کے نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    Delhi Corona News: ذرائع کی مانیں تو اس میٹنگ میں ویکینڈ کرفیو (Weekend Curfew) ، نائٹ کرفیو Delhi Night Curfew کو ہٹانے اور بازاروں میں طاق ODD-EVEN، کے نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    Delhi Corona News: ذرائع کی مانیں تو اس میٹنگ میں ویکینڈ کرفیو (Weekend Curfew) ، نائٹ کرفیو Delhi Night Curfew کو ہٹانے اور بازاروں میں طاق ODD-EVEN، کے نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی. راجدھانی دہلی میں کورونا کیس میں کمی کے بعد اب عام لوگوں کو پابندیوں سے راحت ملی ہے۔ جمعرات کو کورونا صورتحال پر دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (Delhi Disaster Management Authority) کی ایک اہم میٹنگ ہوئی۔ ذرائع کی مانیں تو اس میٹنگ میں ویکینڈ کرفیو (Weekend Curfew) ، نائٹ کرفیو Delhi Night Curfew کو ہٹانے اور بازاروں میں طاق ODD-EVEN، کے نظام کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

      بتا دیں کہ بدھ کو دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے بھی اسکول کھولنے کی بات کہی تھی۔ حالانکہ فیصلہ ڈی ڈی ایم اے کی میٹنگ میں ہوگا۔ منیش سسودیا نے کہا تھا کہ آن لائن تعلیم کبھی بھی آف لائن تعلیم کی جگہ نہیں لے سکتی۔ اس کے ساتھ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ایسے وقت میں اسکول بند کیے تھے جب یہ بچوں کے لیے محفوظ نہیں تھا لیکن اب حد سے زیادہ احتیاط طلبا کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

      دہلی میں کورونا کے سامنے آئے ہیں 7498 معاملے
      بتادیں کہ دہلی میں 24 گھنٹوں میں 7498 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ نئے کیسز آنے کے بعد یہاں متاثرہ افراد کی کل تعداد 18,10,997 ہو گئی ہے۔ دہلی میں کورونا انفیکشن کی شرح 10.59 فیصد ہے۔ منگل کو دارالحکومت میں انفیکشن کے 6028 نئے معاملے سامنے آئے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس مہلک وائرس سے 29 مریض بھی جاں بحق ہوئے جس کے بعد مرنے والوں کی کل تعداد 25,710 ہوگئی۔ اس دوران 11 ہزار 164 مریضوں کو صحت یاب ہونے پر ہسپتالوں سے فارغ بھی کیا گیا اور اب تک مجموعی طور پر 17 لاکھ 46 ہزار 972 افراد کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: