ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

قومی شہریت ترمیمی قانون: بندی اور برقعہ مل کر کر رہے ہیں مخالفت: برندا کرات

برندا کرات نے کہا کہ سخت سردی کے موسم میں گزشتہ 23 دنوں سے جس طرح آپ لوگوں نے قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی کے خلاف مورچہ سنبھال رکھا ہے یہ آپ کی طاقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 07, 2020 07:24 PM IST
  • Share this:
قومی شہریت ترمیمی قانون: بندی اور برقعہ مل کر کر رہے ہیں مخالفت: برندا کرات
قومی شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت بندی اور برقعہ مل کر رہے ہیں: برندا کرات

نئی دہلی۔ قومی شہریت ترمیمی قانون (سی ا ے اے) اور این آرسی کے خلاف گزشتہ 16دسمبر سے دھرنا دینے والی شاہین باغ، جامعہ نگراور دہلی کی خاتون مظاہرین کے حوصلے کو سلام کرتے ہوئے مشہور کمیونسٹ لیڈر برندا کرات نے کہا کہ آپ نے خواتین کی طاقت کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت سردی کے موسم میں گزشتہ 23 دنوں سے جس طرح آپ لوگوں نے قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی کے خلاف مورچہ سنبھال رکھا ہے یہ آپ کی طاقت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ہندوستان ہی نہیں پوری دنیا میں یہ بتا دیا ہے کہ خواتین بھی کسی سے کم نہیں ہیں اور ملک اور آئین کے لئے سڑکوں پر اترنا جانتی ہیں۔


انہوں نے کہا کہ مودی کہتے ہیں کہ قومی شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والوں کو کپڑوں سے پہچانو، اس پر طنز کستے ہوئے کہا کہ یہاں آکر دیکھو، ہمارے کپڑے دیکھو، یہاں بندی اوربرقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں بندی اور برقعہ دونوں مل کر قومی شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کررہے ہیں۔ یہاں ہندو بھی ہیں، سکھ بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں، سب لوگ شامل ہیں۔


شاہین باغ میں نئے سال 2020 کا آغاز ہونے کے بعد سی اے اے کے خلاف احتجاج کر تی ہوئی خواتین۔


انہوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) پر اے بی وی پی کے مبینہ غنڈوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں غنڈہ گردی چل رہی ہے، بچوں پر حملہ کیا جارہا ہے۔ ان کے ہاتھ  پیر توڑے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حالات کبھی نہیں ہوتے تھے اور اب یہ ہے کہ جو بھی فسطائی طاقتوں کے نظریات کی مخالفت کرتا ہے وہ ان پر حملہ کرتے ہیں۔

گزشتہ 16دسمبر سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے زین العابدین نے کہا کہ قومی شہریت ترمیمی قانون، این آرسی  صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ ہر غریب، کمزور طبقہ، دلت اور قبائلی کے خلاف ہے اور اس کے خلاف شاہین باغ میں پرامن احتجاج چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بھوک ہڑتال کا آج 23 واں دن ہے لیکن نہ تو دہلی حکومت کا کوئی نمائندہ نہ ہی مرکزی حکومت کا کوئی افسر اس سے ملنے آیا ہے۔ یہاں تک کہ آج تک کوئی ڈاکٹر بھی دیکھنے نہیں آیا ہے۔

وہاں کا انتظام دیکھنے والوں میں سے ایک صائمہ خاں نے کہا کہ حال ہی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف آئی جی کے عہدے سے استعفی دینے والے عبد الرحمان، فلمی ہستی ذیشان ایوب، سورا بھاسکر، مشہور سماجی کارکن،مصنف اور سابق آئی اے ایس افسر ہرش مندر،  کانگریس لیڈر سندیپ دکشت، بارکونسل کے ارکان، وکلاء، جے این یو کے پروفیسر،سیاست داں سریشٹھا سنگھ، الکالامبا،ایم ایل اے امانت اللہ خاں، سابق ایم ایل اے آصف محمد خاں، بھیم آرمی کے سربراہ چندر شیکھر آزاد، سماجی کارکن شبنم ہاشمی، پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ سیدین حمید، وغیرہ نے اب تک شرکت کرکے ہمارے کاز کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس میں صرف جامعہ نگر، شاہین باغ کی خواتین ہی نہیں بلکہ پوری دہلی کی خواتین اس مظاہرہ میں شرکت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور اترپردیش میں مظاہرین پر بربریت کا مظاہرہ کیا گیا ہے اس نے ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
First published: Jan 07, 2020 07:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading