ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ڈاکٹروں نے بچی کے دونوں پرائیوٹ پارٹس کو کیا بند، ریپ کی شکار 6 سالہ بچی کی پھٹی آنت، واقعہ جان کر اڑ جائیں گے ہوش

بچی کے ساتھ اس حد تک درندگی کی گئی ہے کہ اس کی آنت پھٹ گئی ہے۔ انفیکشن کے ڈر سے ڈاکٹروں نے اس کے دونوں پرائیویٹ پارٹس کو بند کردیا ہے۔

  • Share this:
ڈاکٹروں نے بچی کے دونوں پرائیوٹ پارٹس کو کیا بند، ریپ کی شکار 6 سالہ بچی کی پھٹی آنت، واقعہ جان کر اڑ جائیں گے ہوش
علامتی تصویر

میں متاثرہ بچی سے  روز آتے جاتے بات کرتا تھا۔ اس روز بھی میں نے بچے سے بات چیت کی۔ اس سے پوچھا فروٹی پیو گی۔ اس نے ہاں کردیا اورمیں اسے لیکر چل دیا۔ اس دن میں نے روز کے مقابلے کچھ زیادہ ہی شراب پی رکھی تھی۔ میں اسے جھاڑیوں میں لے گیا۔ اس کے بعد کیا ہوا مجھے کچھ یاد نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق یہ بیان اس ملزم کے ہیں جسے 6 سال کی معصوم کی عصمت دری کے الزام میں پکڑا گیا ہے۔

اس شرمناک واقعے کے بعد سے معصوم اسپتال میں داخل ہے۔ جہاں اس کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ بچی کے ساتھ اس حد تک درندگی کی گئی ہے کہ اس کی آنت پھٹ گئی ہے۔ انفیکشن کے ڈر سے ڈاکٹروں نے اس کے دونوں پرائیویٹ پارٹس کو بند کردیا ہے۔ پیٹ کے راستے ایک الگ ٹیوب ڈالی گئی ہے۔ جسم پر دانت سے کاٹے جانے کے بھی نشان ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اوپری زخم تو شاید کچھ دن میں بھر جائیں گے لیکن اندرونی زخموں کو بھرنے میں کم ازکم 3سے 4 مہینے تک لگ سکتے ہیں۔

بتا دیں کہ 6 سالہ معصوم کو ہوس کا شکار بنانے والا یہ واقعہ دوارکا کا ہے۔ واقعے کو انجام دینے والا بچی کا جاننے والا ہی ہے۔ اسے صفدر گنج اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ ملزم کو بچی چہرے سے پہچانتی تھی اس لئے اس کے ساتھ چل دیا۔ راستے اور پڑوس میں بھی کسی نے اس لئے ٹوکا۔ٹاکی نہیں کی کہ دونوں ہی محلے کے تھے۔

سی سی ٹی وی ٖٖٖفوٹیج کی بنیاد پر پولیس ملزم کو گرفتار کر چکی ہے۔ ملزم اپنا جرم قبول بھی کر چکا ہے۔ وہ شراب کا عادی بتایا گیا ہے۔ پولیس نے اسے تہاڑ جیل  بھیج دیا تھا۔ جہاں سے اسے پولیس ریمانڈ پر دیا گیا ہے۔

متاثرہ بچی کا علاج کر رہے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ شروعاتی علاج سے ابھی بچی کو راحت دی گئی ہے۔ وہ بات کررہی ہے۔ دونوں پرائیویٹ پارٹس کو بند کردیا گیا ہے۔ ٹیوب کے سہارے مدد کی جارہی ہے۔ لیکن انفیکشن پھیلنے کا امکان ختم ہونے کے بعد ٹیوب کو ہٹا کر پہلے کی طرح سے پرائیویٹ پارٹ کے سہارے یہ روز کا کام کرایا جائے گا۔ ا س کیلئے آپریشن کرنے ہوں گے۔

First published: Jul 09, 2019 08:47 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading