உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: سرحد کے پاس پھر نظر آیا ڈرون، جوانوں نے کی 25 راونڈ فائرنگ

    جموں وکشمیر: سرحد کے پاس پھر نظر آیا ڈرون، جوانوں نے کی 25 راونڈ فائرنگ

    جموں وکشمیر: سرحد کے پاس پھر نظر آیا ڈرون، جوانوں نے کی 25 راونڈ فائرنگ

    جموں ضلع کے ارینہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر پیر کی صبح بارڈر سیکورٹی فورسز (بی ایس ایف) اہلکاروں نے فضا میں اڑنے والی کسی چیز پر گولیاں چلائیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بی ایس ایف اہلکاروں نے پیر کی صبح قریب ساڑھے پانچ بجے ارینہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر فضا میں چمکتی ہوئی سرخ و زرد روشنی دیکھی۔

    • Share this:
      جموں: جموں ضلع کے ارینہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر پیر کی صبح بارڈر سیکورٹی فورسز (بی ایس ایف) اہلکاروں نے فضا میں اڑنے والی کسی چیز پر گولیاں چلائیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ بی ایس ایف اہلکاروں نے پیر کی صبح قریب ساڑھے پانچ بجے ارینہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر فضا میں چمکتی ہوئی سرخ و زرد روشنی دیکھی۔
      انہوں نے کہا کہ بی ایس اہلکاروں نے اس روشنی کی طرف گولیاں چلائیں جس کے بعد وہ پاکستان کی طرف واپس چلی گئی۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد علاقے میں تلاشی آپریشن شروع کر دیا گیا۔ بتا دیں کہ جموں ایئر سٹیشن پر 27 جون کو ہوئے ڈرون حملے کے بعد علاقے میں ڈرونز کی سرگرمیوں میں اضافہ درج ہو رہا ہے اور لگ بھگ آئے روز مشتبہ ڈرونز کو پرواز کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ یونین ٹریٹری میں ڈرونز کے بڑھتے ہوئے ان خطرات کے پیش نظر حکومت نے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر 'اینٹی ڈرون' سسٹم نصب کرنے کا کام شروع کیا ہے۔

      واضح رہے کہ سرحد پر ہندوستانی جوان پوری مستعدی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ اس کے سبب پاکستان سرحد پار سے دراندازی نہیں کرا پا رہے ہیں۔ ایسے میں اب وہ ڈرون کاسہارا لیتا ہے۔ گزشتہ کچھ ماہ میں پاکستان کی طرف سے ہندوستانی سرحد میں ڈرون بھیجے جانے کی کئی حادثات دیکھنے کو ملی ہیں۔

      کچھ حادثات میں پلوامہ اور جموں میں جوانوں پرحملے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ 27 جون کو جموں ہوائی اڈے پر ہندوستانی فضائیہ پر ڈرون کے ذریعہ دو ہلکے دھماکے بھی کئے گئے تھے۔ اس میں دو ایئر مین زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے کئی بار الگ الگ علاقوں میں ڈرون دیکھے گئے ہیں۔ حالانکہ جوان اب ڈرون سے متعلق کافی محتاط ہیں۔

      نیوز ایجنسی یو این آئی اردو کے اِن پُٹ کے ساتھ
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: