ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش: بی ایس پی کے دلت۔ مسلم اتحاد کی جانب بڑھتے قدم

اتر پردیش میں لکھنئو سے پورے مغربی اور مشرقی اتر پردیش میں عوامی رابطے کرنے والے صلاح الدین مسّن کی آواز پر سبھی کمزور طبقوں کے ہزاروں لوگوں کا جمع ہوجانا یہ ثابت کررہا ہے کہ صلاح الدین بی ایس پی کے کھوئے ہوئے وقار اور اقتدار کی راہیں ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

  • Share this:
اترپردیش: بی ایس پی کے دلت۔ مسلم اتحاد کی جانب بڑھتے قدم
اترپردیش: بی ایس پی کے دلت۔ مسلم اتحاد کی جانب بڑھتے قدم

لکھنئو۔ اتر پردیش میں دلتوں اور مسلمانوں کے ووٹ کی اہمیت کا اندازہ تو تمام سیاسی جماعتوں کو پہلے سے ہی ہے لیکن کانگریس کی خاموشی ، سماج وادی پارٹی کے داخلی انتشار  اور الیکشن کے دوران ووٹ کی تقسیم کو یقینی بنانے والی چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں  کے ذاتی مفاد پر مبنی منصوبوں اور مکمل طور پر تبدیل ہوتی سیاسی صورت حال نے ایک بار پھر یہ اشارے دینے شروع کر دئے ہیں کہ بی ایس پی ایک بار پھر دلت۔ مسلم اتحاد کی جانب بڑھ رہی ہے۔


اتر پردیش میں لکھنئو سے پورے مغربی اور مشرقی اتر پردیش میں عوامی رابطے کرنے والے صلاح الدین مسّن کی آواز پر  سبھی کمزور طبقوں کے ہزاروں لوگوں کا جمع ہوجانا یہ ثابت کررہا ہے کہ صلاح الدین بی ایس پی کے کھوئے ہوئے وقار اور اقتدار کی راہیں ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص سب سے بڑی اور سب سے بدحال اقلیت کا سیاسی مستقبل کیا ہے یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تو ہر سیاسی جماعت کے پاس ہے لیکن اس جواب سے اقلیتی طبقے کے علماء دانشور اور سیاست داں مطمئن نہیں۔ آزادی کے بات سے اب تک مسلم طبقے کی قربانیوں کو جس انداز سے نظرانداز کیا گیا ہے مختلف بنیادوں پر انہیں دوسرے درجے کا شہری سمجھ کر جو سلوک کیا گیا ہے اس نے امن پسند اور جمہوریت میں یقین رکھنے والے شہریوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔


غیر سیاسی علماء کے مطابق مسلم قیادت کے فقدان اور کوئی ٹھوس حکمت عملی نہ ہونے کے سبب ایسا ہوا کچھ لیڈر مسلمانوں کے نام پر ابھر کر سامنے آئے بھی لیکن یا تو وہ سیاسی آقاؤں کے غلام ہو گئے یا پھر ذاتی مفاد کے اسیر ہو گئے اور ملت ملک اور قوم  کو فراموش کردیا گیا۔ بات اگر اتر پردیش  کی کریں تو مولانا ہارون اور مولانا علی حسین قمی کہتے ہیں کہ گزشتہ بیس سال میں سیاسی و سماجی سطح پر صرف  بی ایس پی کے سابق وزیر صلاح الدین کا نام ایسا ہے جنہوں نے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر ملک ملت اور قوم کے لیے کام کیا ساتھ ہی دلتوں مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے دبے کچلے لوگوں کے لیے بھی غیر معمولی کام کئے۔ آج بھی عوامی رابطوں کے مہموں صلاح الدین مسّن کی آواز پر ہزاروں لوگوں کو جمع ہوجانا یہ بتاتا ہے کہ ابھی  عوامی خدمات کے جذبوں کے ساتھ مثبت سیاست کی جاسکتی ہے۔ اتر پردیش میں اگر ایسے چار لیڈر بھی مسلمانوں کے پاس ہوتے تو ان کے بیشتر مسائل حل  ہو چکے ہوتے۔


معروف سیاسی مبصر اور دانشور ایس کے ترویدی کہتے ہیں کہ مسلم طبقے کی بدنصیبی یہ ہے کہ اسے کانگریس اور سماج وادی پارٹی نے ہمیشہ سیاسی مفاد  کے لئے استعمال کیا۔ مسلم بدحالی کا اعتراف بھی کیا گیا ، کمیٹیوں اور کمیشنوں کی رپورٹیں بھی پیش کی گئیں لیکن ان کے مسائل حل کرنے کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے گئے۔ موجودہ سیاسی نظام میں بغیر مستحکم قیادت کے کچھ بھی حاصل کرنا ناممکن حد تک دشوار ہے۔ مسلم سیاسی لیڈروں اور چہروں کے نام پر ملک کی سب سے بڑی ریاست میں کانگریس ، بی جے پی، ایس پی اور بی ایس پی کے پاس جو چہرے ہیں انہیں عوامی اعتماد حاصل نہیں۔ تاہم صلاح الدین جیسے رہنماؤں کی ذاتی کوششوں سے بی ایس پی کے لئے ماحول سازگار ضرور ہوا ہے۔

معروف عالم دین مولانا ابو العرفان  کہتے ہیں کہ کچھ ملت فروش مولویوں نے بھی اپنے مفاد کے لئے مسلمانوں کا ٹھیکیدار بن کر پوری ملت کا سیاسی مستقبل داو پر لگایا ہے لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہاہے لوگ بیدار ہو رہے ہیں اور یہ بیداری ایک بڑے سیاسی انقلاب کا پیش خیمہ ضرور ثابت ہو گی۔ اتر پردیش میں اس دور اقتدار میں مسلمانوں نے بہت ظلم و ستم سہے ہیں لہٰذا اب ایک مستحکم حکمت عملی کے ساتھ اسی سیاسی جماعت اور سیاسی لیڈر کا تعاون کیاجائے گا جو سماج کے دبے کچلے اور کمزور لوگوں کے لیے کام کرے اور اپنی جماعت سے ان کے مسائل حل کرانے کا اہل ہو۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 19, 2020 06:00 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading