ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بجٹ 2020: اقلیتی طبقے کےبجٹ میں اضافہ، مودی حکومت کی جانب سے اعتماد جیتنےکی کوشش

وزرارت اقلیتی امور کے بجٹ میں 329 کروڑ روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ مدرسہ ٹیچرس اسکیم میں 100 کروڑ بڑھا کر 220 کروڑکر دیا گیا ہے۔

  • Share this:
بجٹ 2020: اقلیتی طبقے کےبجٹ میں اضافہ، مودی حکومت کی جانب سے اعتماد جیتنےکی کوشش
وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بجٹ 2020 میں اقلیتی طبقےکا ذکرکیا۔ تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی: معیشت کی خراب صورتحال اور گرتی جی ڈی پی  اور مالی خسارہ کے درمیان وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن نے اپنا دوسرا اور مودی حکومت 2.0 کا پہلا مکمل بجٹ پیش کردیا ہے۔ بجٹ میں عام آدمی کو تھوڑی سی راحت اس بات سے ضرور ملی ہےکہ نوکری پیشہ لوگوں کےلئے نیا ٹیکس سلیب بنایا گیا ہے۔ 2.5 سے 5 لاکھ تک کی آمدنی پر 5 فیصد ٹیکس، 5 سے 7.5 لاکھ تک کی آمدنی پر 10 فیصد ٹیکس، 7.5 سے10 لاکھ تک کی آمدنی پر 15 فیصد ٹیکس، 10 سے 12.5 لاکھ تک کی آمدنی پر 20 فیصد ٹیکس،12.5 سے15 لاکھ تک کی آمدنی پر 25 فیصد ٹیکس، 15 لاکھ سے زائد کی آمدنی پر 30 فیصد ٹیکس دینا ہوگا۔

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بجٹ میں پہلی باراقلیتی طبقےکا ذکرکیا تو ساتھ ہی ساتھ خراب ہوتے معاشی حالات میں وزارت اقلیتی امور کے بجٹ میں 329 کروڑ روپئےکا پیکیج دیا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلے جولائی میں پیش کئےگئےگزشتہ سال کے بجٹ میں وزارت کے بجٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا اور اس سے پہلے بھی عبوری بجٹ میں وزارت کا بجٹ 4700 کروڑ ہی رکھا گیا تھا۔ اب وزارت اقلیتی امورکابجٹ 50029 کروڑروپئےکیا گیا ہے، جس سے اقلیتی طبقے میں تھوڑااعتماد پیدا ہوگا۔


پری میٹرک اسکالر شپ کا بجٹ 1220 کروڑ سے 1330 کروڑ کیا گیا ہے، تو پوسٹ میٹرک اسکالر شپ 496 کروڑ سے 535 کروڑ کیا گیا ہے۔ مولانا آزاد اسکالر شپ کا بجٹ 155 کروڑ سے 175 کروڑ کیا گیا۔ حالانکہ مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا بجٹ 90 کروڑ سےگھٹا کر 82 کروڑکر دیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی 123 کروڑ روپئےکے بجٹ کوگھٹا کر90 کروڑ کیا گیا تھا۔ پردھان منتری جن وکاس پروگرام کےلئے مختص رقم 1469 سے بڑھا کر 1600 کردیا گیا، مجموعی طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہےکہ گرتی معیشت کے درمیان ایک چھوٹا پیکیج اقلیتی طبقےکو ملا ہے۔ ساتھ ہی وزارت فروغ انسانی وسائل کے تحت چلنے والا مدرسہ جدید کاری منصوبہ کے اساتذہ کےلئے بھی راحت کی خبر ہے۔ پہلی بار مودی حکومت نے اس اسکیم کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔


مودی حکومت نےبجٹ 2020 کےذریعہ اقلیتوں کا اعتماد جیتنےکی کوشش کی ہے۔
مودی حکومت نےبجٹ 2020 کےذریعہ اقلیتوں کا اعتماد جیتنےکی کوشش کی ہے۔


مدرسہ ٹیچرس اسکیم کے بجٹ میں 100 کروڑ روپئےکا اضافہ ہوا ہے۔ اس طرح سے بجٹ 120 کروڑ روپئے سے بڑھ کر 220 کروڑ تک پہنچ گیا ہے۔ حالانکہ یہ 2015 کے بجٹ سے اب بھی 75 کروڑ کم ہے، اس وقت اسکیم کا بجٹ 292 کروڑ ہوا کرتا تھا۔ خاص بات یہ ہےکہ بجٹ خرچ کرنےکو لےکر سال 2018 میں صرف 18 کروڑ روپئے ہی خرچ ہوسکا۔ حالانکہ بجٹ 120 کروڑ روپئےکا تھا۔ یہ اس لئے بھی کافی اہم ہےکیونکہ حکومت نے اس اسکیم کے فارمیٹ کو تبدیل کیا ہے۔ پہلے یہ اسکیم 100 وزارت برائے فروغ انسانی وسائل سے فنڈیڈ تھی، لیکن اب اس میں ریاستوں کا حصہ ہے، اس طرح سے دیکھیں تو مدرسہ ٹیچر اسکیم کا بجٹ کافی بہتر ہے۔ کیونکہ اترپردیش جیسی ریاست میں مرکزی حکومت صرف 60 فیصد فنڈنگ کرےگی۔ 40 فیصد کی فنڈنگ ریاستی حکومت کو کرنا ہے۔ حکومت کے اس قدم سے اترپردیش میں ہی 30000 سے زیادہ مدرسہ ٹیچروں کو کافی راحت مل سکتی ہے، جو کئی سالوں سے تنخواہ کےلئے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہیں اور تنخواہ کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

وزارت برائے اقلیتی امور کے بجٹ میں 329 کروڑ روپئےکے طور پر 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
وزارت برائے اقلیتی امور کے بجٹ میں 329 کروڑ روپئےکے طور پر 7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔


وزارت برائے اقلیتی امورکے بجٹ میں 329 کروڑ روپئے کے طور پر7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حالانکہ دوسری طرف درج فہرست قبائل (شیڈول ٹرائب) کے لئے حکومت نے 85000 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا التزام کیا ہے۔ اسی طریقے سے شیڈول کاسٹ کے لئے 53700 کروڑ روپئے خرچ کئے جانے کا التزام ہے۔ اگر مرکز کے زیرانتظام ریاستوں بنائے گئے جموں وکشمیر کی بات کی جائے تو جموں وکشمیر کے لئے بجٹ میں 30750 کروڑ روپئے رکھے گئے ہیں جبکہ لداخ کے لئے 5958 کروڑ روپئے رکھے گئے ہیں۔
First published: Feb 01, 2020 06:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading