ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بلند شہرتشدد: گئوکشی پر پولیس ایف آئی آر میں 7 مسلمانوں کے نام، دو نابالغ، 5 گاوں میں تھے ہی نہیں

بجرنگ دل کے ضلع صدر یوگیش راج کے بیان پر ان سبھی ملزمان کے خلاف شکایت درج کی گئی ہے۔

  • Share this:
بلند شہرتشدد: گئوکشی پر پولیس ایف آئی آر میں 7 مسلمانوں کے نام، دو نابالغ، 5 گاوں میں تھے ہی نہیں
بلند شہر میں تشدد کے دوران جلائی گئی گاڑیوں کی جانچ کرتے پولیس افسران: فوٹو پی ٹی آئی۔

بلند شہر تشدد میں 7 مسلمانوں کے خلاف گئوکشی کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔ یہ تمام نیابانس گاؤں کے رہائشی ہیں۔ پیر کے روز بلند شہر میں تشدد کے دوران دو افراد کی موت ہو گئی تھی جس میں پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ بھی شامل تھے۔


جن سات لوگوں کے خلاف معاملہ درج ہوا ہے اس میں دو نابالغ بھی شامل ہیں۔ ان کی عمر 11 اور 12 سال ہے۔ مقامی پولیس اور گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ باقی لوگ جن کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہ واقعہ کے دن گاوں میں نہیں تھے۔


بجرنگ دل کے ضلع صدر یوگیش راج کے بیان پر ان سبھی ملزمان کے خلاف شکایت درج کی گئی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ یوگیش راج کے خلاف بھی الگ سے ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یوگیش راج پر پولیس انسپکٹر سبودھ کمار سنگھ کو قتل کرنے اور تشدد بھڑکانے کا الزام ہے۔


نابالغ بچوں کے والدین اور ان کے قریبی رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ پولیس تلاشی کے لئے ان کے گھر آئی تھی۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد پولیس بچوں کو ساتھ لے کر گئی۔ ایک رشتہ دار نے کہا، "مجھے بچوں کے ساتھ پولیس اسٹیشن لے گئے تھے۔ مجھے وہاں تقریبا چار گھنٹے تک رکھا۔ اس کے بعد پولیس نے مجھے نام اور فون نمبر دینے کے لئے کہا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: بلند شہرتشدد: مبینہ گئوکشی میں شامل لوگوں کے خلاف کارروائی کا وعدہ، لیکن پولیس افسر کے قتل پرخاموشی

تھانے لے جائے گئے ایک نابالغ نے کہا، '' ہم نے وہاں بات نہیں کی۔ مجھے وہاں بڑا عجیب سا لگ رہا تھا۔ میں پہلی بار کسی تھانے میں گیا تھا۔ جب میرے چچا نے کہا کہ ہم لوگوں کی عمر 18 سال سے کم ہے تب پولیس نے ہمیں آدھار کارڈ دکھانے کو کہا‘‘۔

بلند شہر کے ایک سینئر پولیس افسر کرشن بی سنگھ نے نیوز 18 کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ وہ حقائق کی جانچ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: بلند شہرتشدد: بہن نے یوگی کے خلاف ناراضگی ظاہرکرتے ہوئے کہا "وزیراعلیٰ گئورکشا کی بات کرتے ہیں، اسی کےلئےمیرے بھائی نےجان دے دی"۔

تقریبا 70 پولیس اہلکار نیابانس گاوں میں سات ملزمین کی تلاش میں گئے تھے۔ ان سات ملزمان میں صدیف کا نام بھی تھا۔ لیکن وہ اس گاوں کا رہنے والا نہیں ہے۔ الیاس نام کے دو لوگ اس گاوں میں ملے۔ لیکن پولیس والوں کو بتایا گیا کہ 15 سال پہلے ہی یہ دونوں اپنے کنبوں کے ساتھ گاوں چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ ایف آئی آر میں تیسرا نام شرافت کا تھا۔ وہ بھی پچھلے کئی سالوں سے اپنے کنبہ کے ساتھ فریدآباد میں رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بلند شہر تشدد: انسپکٹر کے قتل میں بجرنگ دل، بی جے پی، وی ایچ پی کارکنان کے خلاف ایف آئی آر

گاوں کے سیف الدین اور پرویز کا بھی نام ایف آئی آر میں تھا۔ لیکن ہفتہ کے روز سے ہی یہ دونوں نیابانس گاوں سے دور بلند شہر میں تھے۔ یہ دونوں وہاں ایک مذہبی اجتماع کے لئے گئے ہوئے تھے۔ ابھی تک یہ دونوں وہاں سے واپس نہیں آئے ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے پولیس کو ثبوت کے طور پر اجتماع میں ان کے شامل ہونے کی تصویریں اور ویڈیو بھی دئیے۔

رونق کمار گنجن کی رپورٹ
First published: Dec 05, 2018 01:07 PM IST