ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

بلند شہر آبروریزی کیس پر الہ آباد ہائی کورٹ سخت ، ازخود لیا نوٹس ، سماعت کل

ماں بیٹی کے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کی خبریں مسلسل میڈیا میں آنے کے بعد عدالت نے اس واقعہ کا خود سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Aug 07, 2016 02:29 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بلند شہر آبروریزی کیس پر الہ آباد ہائی کورٹ سخت ، ازخود لیا نوٹس ، سماعت کل
ماں بیٹی کے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کی خبریں مسلسل میڈیا میں آنے کے بعد عدالت نے اس واقعہ کا خود سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔

الہ آباد : الہ آباد ہائی کورٹ نے اترپردیش کے بلند شہر میں ماں بیٹی کے ساتھ ہونے والی اجتماعی آبروریزی سانحہ کوسنگین معاملہ بتائے ہوئے از خود نوٹس لیا ہے۔ اس معاملے کی سماعت کل ہوگی۔ چیف جسٹس ڈی بی بھوسلے اور جسٹس یشونت ورما کی بنچ نے اس معاملہ کی سماعت کے لئے آٹھ اگست کی تاریخ مقرر کی ہے ۔ ماں بیٹی کے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کی خبریں مسلسل میڈیا میں آنے کے بعد عدالت نے اس واقعہ کا خود سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ کورٹ بادی النظر میں اس معاملے میں حکومت کی کارروائی سے مطمئن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ 30 جولائی کی رات بلند شہر کی کوتوالی دیہات کے علاقے کے قومی شاہراہ پر کچھ بدمعاشوں نے نوئیڈا سے شاہ جہاں پور جا نے والے ایک خاندان کی گاڑی روک کر خاندان کو اغوا کر لیا۔ بدمعاش خاندان کو ہائی وے سے تقریبا 50 میٹر دور کھیت میں لے گئے۔ لوٹ مار کے بعد بدمعاشوں نے ماں اور بیٹی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی۔ قریب ڈیڑھ گھنٹے تک اس خاندان کے ساتھ حیوانیت کو انجام دینے کے بعد بدمعاش فرار ہو گئے۔

وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اس لوٹ مار اور اجتماعی آبروریزی کے واقعہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے بلند شہر کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ وبیبھو کرشنا سمیت تین افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا تھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں تین بدمعاشوں کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا۔ انتظامیہ نے اس سے پہلے پولیس انسپکٹر کوتوالی رام سین سنگھ اور دیگر کئی پولیس افسران کو بھی معطل کر دیا تھا۔

First published: Aug 07, 2016 02:29 PM IST