உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جہانگیر پوری بلڈوزر معاملہ: سپریم کورٹ کی مداخلت کا ارشد مدنی نے کیاخیرمقدم، بولے! حتمی فیصلہ بھی مظلومین کے حق میں ہوگا انشاء اللہ۔

    Youtube Video

     مولانا ارشد مدنی Maulana Syed Arshad Madni نے سپریم کورٹ Supreme Court کی فوری مداخلت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کے اس عبوری حکم کاہم استقبال کرتے ہیں اور یہ امید کرتے ہیں کہ حتمی فیصلہ بھی مظلومین کے حق میں ہوگا انشاء اللہ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان قائم کرنے کے سلسلے میں کسی بھی حکومت یاعدالت کے فیصلہ کا جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ استقبال کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی۔

    • Share this:
    نئی دہلی: دہلی کے جہانگیر پوری میں مسلمانوں کی املاک پر چل رہے بلڈوز ر پر فوری روک لگانے کے لئے سپریم کورٹ آف انڈیانے احکامات جاری کئے جس سے دہلی کے متاثرہ علاقہ جہانگیر پوری میں غریب ومزدور پیشہ لوگوں کو فوری راحت حاصل ہوئی ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا کے روبرو آج جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل کپل سبل کے ساتھ سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے بھی چیف جسٹس کو کہا کہ غیر قانونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے املاک پر بلڈوزر چلایا جارہا ہے۔جس پر روک لگانی چاہئے۔ سینئر وکلاء کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے چیف جسٹس نے انہدام پر فوری روک لگانے کے لئے احکامات جاری کرتے ہوئے کل(جمعرات) کو اس معاملے کی سماعت کافیصلہ کیا، چیف جسٹس آف انڈیانے کہا کہ اسٹیٹس (صورتحال کوجوں کاتوں)برقرار رکھا جائے یعنی کہ بلڈوزر چلانا بند کیاجائے۔سپریم کورٹ میں جمعیۃعلماء ہند کی طرف سے دائر پٹیشن ڈائری نمبر 11955/2022عدالت سے جلد از جلد سماعت کئے جانے کی گذارش کی گئی تھی جسے انہوں نے منظور کرلیا۔افسوس کہ جہانگیر پوری کی جامع مسجد کے اطراف میں سپریم کورٹ کا حکم آنے کے بعدبھی دیڑھ گھنٹہ تک دکانوں اور مکانوں کا انہدام ہوتا رہا۔

    Pakistani Actressصاحبہ افضل نے بیٹیوں کو بتایا بوجھ، بیٹوں کی طرفداری کرنے پر بری طرح ٹرول


    اس درمیان متاثرین پولس اورایم سی ڈی افسران سے مسلسل یہ کہتے رہے کہ ٹی وی چینلوں پرخبرآرہی ہے کہ سپریم کورٹ نے انہدامی کارروائی پر فوری روک لگادی ہے۔ لہذا انہدامی کارروائی روکی جائے مگر افسوس کہ اس مذموم سلسلہ کوانہوں نے نہیں روکااورانہدامی کارروائی کوبدستورجاری رکھا۔ کارروائی چلتی رہی جس کی شکایت کل سپریم کورٹ سے کی جائیگی۔صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کی فوری مداخلت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کے اس عبوری حکم کاہم استقبال کرتے ہیں اور یہ امید کرتے ہیں کہ حتمی فیصلہ بھی مظلومین کے حق میں ہوگا انشاء اللہ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان قائم کرنے کے سلسلے میں کسی بھی حکومت یاعدالت کے فیصلہ کا جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ استقبال کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی۔اس کے ساتھ ساتھ وہ کسی بھی ناانصافی کے خلاف اپنی روایت کیے مطابق اسی طرح آوازبھی اٹھاتی رہے گی۔ قابل ذکر ہے کہ جمعیۃعلماء ہند اسی تناظرمیں سپریم کورٹ گئی ہے تاکہ یہ غیرقانونی عمل اورسنگین ناانصافی پر روک لگائی جائے۔

    China میں سڑکوں پر بند تھیلوں میں پڑے ملے زندہ کتے۔بلی، جانئے کیا ہے خطرناک پلان

    دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں جرائم کی روک تھام کی آڑمیں سرکاری طور پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو تباہ وبربادکردینے کی غرض سے بلڈوزرکی جو خطرناک سیاست شروع ہو رہی ہے۔ اس کے خلاف قانونی جدوجہد کے لئے ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم جمعیۃعلماء ہند نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں پٹیشن داخل کی تھی جس میں جمعیۃعلماء ہند قانونی امدادی کمیٹی کے سکریٹری گلزاراحمد اعظمی مدعی بنے ہیں۔اس پٹیشن میں عدالت سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ ریاستوں کو حکم جاری کرے کہ عدالت کی اجازت کے بغیر کسی کے گھریا دوکان کو مسمارنہیں کیا جائے گا۔

    قابل ذکرہے کہ اترپردیش میں بلڈوزرکی سیاست شروع ہوئی، لیکن اب یہ مذموم سلسلہ بی جے پی حکمرانی والی ریاست گجرات اور مدھیہ پردیش، دہلی میں بھی شروع ہوچکی ہے۔ واضح رہے کہ ان معاملات میں سپریم کورٹ سے مداخلت کی گذارش کی گئی ہے کہ یکے بعد دیگرریاستیں اتر پردیش اور مدھیہ پردیش حکومتوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گجرات میں بھی غیر قانونی طریقوں سے مسلمانوں، دلتوں اور آدیواسیوں کی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جس پر قدغن لگنا ضروری ہے۔ پٹیشن میں مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور گجرات ریاستوں کو فریق بنایا گیا تھا، اور گلزار احمد اعظمی کی طرف سے ایک حلف نامہ داخل کرتے ہوئے دہلی کو بھی اس پٹیشن میں شامل کردیا گیا ہے۔ جہاں آج 20/اپریل کو مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کی گئی۔پٹیشن ایڈوکیٹ صارم نوید نے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل سے صلاح و مشورہ کہ بعد تیار کی ہے، جبکہ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ کبیر ڈکشت نے داخل کی ہے جس پرکل سماعت ہوگی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: