உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bulli Bai App Case کی شکایت کنندہ کو فون پردی گئی دھمکی، ممبئی سائبرپولیس نےتحقیقات کاکیاآغاز

    Bulli Bai Case: بنگلورو سے گرفتار پہلا ملزم کورونا پازیٹیو، دو ملزمین کی پولیس حراست 14 جنوری تک بڑھی

    Bulli Bai Case: بنگلورو سے گرفتار پہلا ملزم کورونا پازیٹیو، دو ملزمین کی پولیس حراست 14 جنوری تک بڑھی

    Bulli Bai App Case: یہ معاملہ 'بُلّی بائی' ایپ کی تخلیق سے متعلق ہے، جس نے مسلم خواتین کو ان کی تصاویر نیلام کے لیے آن لائن نشانہ بنایا تھا۔ پولیس کے اسپیشل سیل نے اس معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کی ہے

    • Share this:
      ممبئی پولیس کے سائبر ڈپارٹمنٹ نے ایک نامعلوم شخص کے خلاف نان کوگنیز ایبل (NC) جرم درج کیا جب بلی بائی ایپ کیس میں ایک شکایت کنندہ نے انہیں بتایا کہ اسے اس کے فون پر دھمکی آمیز کال موصول ہوئی ہیں۔ ایک اہلکار نے پیر کو بتایا کہ باندرہ کرلا کمپلیکس کے سائبر پولیس اسٹیشن کے اہلکار نے بتایا کہ شکایت کنندہ نے پولیس کو بتایا کہ فون کرنے والے نے اسے فون پر دھمکی دی اور پوچھا کہ اس نے ان کے نام کیوں ظاہر کیے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہفتہ کو ایک نامعلوم شخص کے خلاف این سی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

      انہوں نے کہا کہ پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کال کرنے والے کو شکایت کنندہ کا موبائل فون نمبر کیسے ملا۔ اہلکار نے مزید کہا کہ کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی اور مزید تفتیش جاری ہے۔ سلی ڈیلز ایپ بنانے والا ملزم گرفتار، ملزم کو دہلی پولیس کے اسپیشل سیل کی ٹیم نے گرفتار کیا ہے۔ملزم نے اندور کی آئی پی ایس اکیڈیمی سے بی سی اے تک کی تعلیم حاصل کی ہے۔ملزم کا نام اوم کاریشور ٹھاکر ہےجو مدھیہ پردیش کے اندور میں نیویارک سٹی ٹاؤن شپ میں رہتا ہے۔ اس ملزم نے اندور میں آئی پی ایس اکیڈیمی سے بی سی اے تک تعلیم حاصل کی ہے۔

      ابتدائی پوچھ تاچھ کے دوران، اوم کاریشور ٹھاکر نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ٹویٹر پر ایک ٹریڈ گروپ کا رکن تھا اور یہ خیال مسلم خواتین کو بدنام کرنے اور ٹرول کرنے کے لیے شیئر کیا گیا تھا۔پولیس کو اوم کاریشور ٹھاکرنے بتایا کہ اس GitHub پر کوڈتیار کیا تھا۔ GitHub کی رسائی گروپ کے تمام ممبران کے پاس تھی۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایپ شیئرکی تھی۔ جس کے بعد مسلم خواتین کی تصاویر گروپ ممبران نے اپ لوڈ کی تھیں۔

      یہ معاملہ 'بُلّی بائی' ایپ کی تخلیق سے متعلق ہے، جس نے مسلم خواتین کو ان کی تصاویر نیلام کے لیے آن لائن نشانہ بنایا تھا۔ پولیس کے اسپیشل سیل نے اس معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کی ہے، 6 جنوری کو آسام سے نیرج بشنوئی کو گرفتار کیا تھا۔پولیس کے مطابق، بشنوئی اس ایپ کا اصل تخلیق کار تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: