உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bulli Bai Case: ممبئی عدالت نے تین ملزمین کو دی ضمانت، ’’کیس میں جھوٹا پھنسایا گیا تھا‘‘

    Bulli Bai APP:اس وجہ سے عدالت نے دی مسلم خواتین کی نیلامی کاایپ بنانے والوں کو ضمانت

    Bulli Bai APP:اس وجہ سے عدالت نے دی مسلم خواتین کی نیلامی کاایپ بنانے والوں کو ضمانت

    چارج شیٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بشنوئی سب سے پہلے بلی بائی ایپ کا لنک اپنے ٹویٹر گروپ پر شیئر کرنے والے تھے اور گروپ کے ممبران کو پوری طرح معلوم تھا کہ اسے مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    • Share this:
      ممبئی کی ایک سیشن عدالت نے منگل کو 'بلّی بائی' ایپ کیس (Bulli Bai app case) میں گرفتار تین طالب علموں کو ضمانت دے دی۔ بلّی بائی ایپ کے ذریعہ کئی مسلم خواتین کی تفصیلات کو عام کیا گیا تھا تاکہ لوگوں کو ان کی "نیلام" میں حصہ لینے کی اجازت دی جا سکے۔

      نیرج بشنوئی، اومکریشور ٹھاکر اور نیرج سنگھ کو ایڈیشنل سیشن جج اے بی شرما نے ضمانت دے دی۔ اپنی ضمانت کی درخواست میں بشنوئی نے دعویٰ کیا کہ اسے اس کیس میں جھوٹا پھنسایا گیا ہے۔ اس کے شریک ملزم کو ضمانت دی گئی تھی۔ یہ کیس ایڈوکیٹ شیوم دیشمکھ کے ذریعے داخل کیا گیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      مذہبی عبادت گاہوں سے متعلق قانون سے چھیڑچھاڑ انتہائی خطرناک: مولانا ارشد مدنی

      اس سے پہلے اپریل میں میٹروپولیس میں باندرا مجسٹریٹ عدالت نے وشال کمار جھا، شویتا سنگھ اور میانک اگروال کو ضمانت دی تھی۔ پولیس نے مارچ میں داخل کردہ اپنی چارج شیٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ بشنوئی نے ایک شریک ملزم سے 100 مشہور غیر بی جے پی مسلم خواتین کی تصاویر نیلامی کے لیے بھیجنے کو کہا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      کیاآپ ہندوستانی فضاؤں میں اڑناچاہتےہیں؟ ہوائی اڈے پرپہنچنےسےپہلےایئرسوودھابھرنامت بھولیں!

      چارج شیٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بشنوئی سب سے پہلے بلی بائی ایپ کا لنک اپنے ٹویٹر گروپ پر شیئر کرنے والے تھے اور گروپ کے ممبران کو پوری طرح معلوم تھا کہ اسے مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اگرچہ کوئی حقیقی نیلامی یا فروخت نہیں ہوئی تھی، لیکن ایپ کا مقصد نشانہ بننے والی خواتین کی تذلیل اور دھمکانا معلوم ہوتا ہے، جن میں سے اکثر سوشل میڈیا کے فعال صارفین ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: