உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    براڑی کیس: سامنے آیا ایک اور حیران کرنے والا ویڈیو، کنبے کے لوگ جمع کرتے نظر آئے موت کا سامان

    دہلی کے براڑی علاقے کے سنت نگر میں ایک گھر سے ایک ساتھ 11 لاشیں ملنے کے معاملے میں ہر دن نئی نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

    دہلی کے براڑی علاقے کے سنت نگر میں ایک گھر سے ایک ساتھ 11 لاشیں ملنے کے معاملے میں ہر دن نئی نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

    دہلی کے براڑی علاقے کے سنت نگر میں ایک گھر سے ایک ساتھ 11 لاشیں ملنے کے معاملے میں ہر دن نئی نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

    • Share this:
      دہلی کے براڑی علاقے کے سنت نگر میں ایک گھر سے ایک ساتھ 11 لاشیں ملنے کے معاملے میں ہر دن نئی نئی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ پورا کنبہ آنجہانی والد سے ملنے کیلئے تنتر۔منتر اور مبینہ طور پر مذہبی رسم کو ادا کر رہا تھا۔ کنبہ نے اجتماعی خودکشی کی۔ اس کیلئے کنبے کے دو لوگ گھر کے بغل والی فرنیچر کی دکان سے پلاسٹک کے اسٹول اور تار خریدے تھے۔پولیس نے فرنیچر شاپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالی ہیں۔ اس میں کسی کو بھاٹیا کنبے کے گھر کے اندر جاتے نہیں دیکھا گیا لیکن کنبے کی بڑی بہو یعنی بھونیش کی بیوی سویتا پلاسٹک کے 6 اسٹول لاتے ہوئے سی سی ٹی وی میں قید ہوئیں۔

      سی سی ٹی وی فوٹیج سے پتہ چل رہا ہے کہ بھاٹیا کنبہ کی بڑی بہو سویتا اپنی بیٹی کے ساتھ رات میں ٹھیک 10 بجے اسٹول لا رہی ہیں۔ کنبے کے دو سب سے چھوٹے ممبر 12 سال کے دھرو اور 15 سال کے شوم کو اسی فرنیچر دوکان سے تار لاتے دیکھا گیا۔ دھرو اور شوم دونوں سی سی ٹی وی میں قید ہیں۔

      پولیس کا کہنا ہے کہ گھر کا چھوٹا بیٹا ہونے کی وجہ سے للت بھاٹیا اپنے والد بھوپال سنگھ کا لاڈلا تھا اور ان کے بیحد قریب تھا۔ والد کی موت کا اثر اس پر سب سے زیادہ پڑا۔للت صدمے میں تھا۔ پاس پڑوس کے لوگوں نے پولیس کو بتایا کہ ایک حادثے میں للت کی آواز چلی گئی تھی۔کافی علاج کے بعد آواز نہیں لوٹی تب سے وہ اپنی باتیں لکھ کر بتانے لگا۔کنبے کے قریبیوں کے مطابق اسی دوران للت نے گھر کے لوگوں کو بتایا کہ والد بھوپال سنگھ اسے دکھائی دیتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں۔

      پولیس کو کچھ اور لکھے نوٹس بھی ملے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح اجتماعی خودکشی کی پوری منصوبہ بندی ہوئی ۔30جون کی آخری اینٹری اس معاملے کا راز کھولتی ہے۔ ڈائری میں آخری اینٹری میں ایک صفحہ پر لکھا ہے'گھر کا راستہ۔9 لوگ جال میں،بیبی (بیوہ بہن) مندر کے پاس اسٹول پر ،10 بجے کھانے کا آرڈر،ماں روٹی کھلائے گی،ایک بجے عمل،سنیچر ۔ اتوار رات کے درمیان ہوگی،منھ میں ٹھونسا ہوگا گیلا کپڑا،ہاتھ بندھے ہوں گے،اس میں آخری پنکتی ہے۔'کپ میں پانی تیار رکھنا،اس کا رنگ بد لے گا،میں حاضر ہوں گا اور سب کو بچاؤں گا'۔

      للت نے ہی زیادہ تر یہ نوٹس لکھے ہیں ۔اس کے نوٹس سے صاف پتہ چلا ہے کہ للت کو وہم تھا کہ اسے اپنے آنجہانی والد نظرآتے ہیں اور کنبے کو موکش کے راستے بتاتے ہیں ۔پولیس کو کچھ اور نوٹس بھی ملے ہیں جو للت کی بھانجی پرینکا بھاٹیا کی ہینڈ رائیٹنگ میں ہیں ۔پرینکا کی 17 جون کو منگنی ہوئی تھی۔

      کچھ نوٹس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پورے کنبے کے مرنے کی امید نہیں تھی ۔انہیں یقین تھا کہ بھوپال سنگھ (للت کے والد کی روح) آکر سب کو بچا لیں گے۔ رجسٹر کے ایک صفحے پر لکھا ہے ۔ 'آخری وقت پر زمین کانپے گی ،آسمان ہلے گا، پر تم گھبرانا مت ،میں آؤں گا،تمہیں بچا لوں گا، باقیوں کو بھی بچانے میں مدد کروں گا،اس عمل کے بعد ہم سب ایک ہو جائیں گے"۔

      براڑی معاملے میں ماہر نفسیات بھی حیران، بتایا دنیا کا سب سے عجیب کیس

      ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ للت کی ہدایات کے مطابق کام کرنے پر گھر والوں کو کافی ترقی بھی ملی تھی۔ اس لئے اس مبینہ 'موکش عمل'پر کسی نے سوال نہیں اٹھایا۔ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ پورا کنبہ 'شیئرڈ سائیکوٹک ڈس آرڈر 'کا شکار تھا۔ اس بیماری سے متاثر شخص کو کسی مرے ہوئے یا تیسرے شخص کی آواز سنائی دینے اور اسے دیکھنے کا وہم ہو جاتا ہے۔ پھر ایسا شخص اسی کے کہے کے مطابق کام کرنے لگتا ہے۔ حالانکہ ، کنبے کے رشتہ دار اور راجستھان میں رہنے والا بھائی دنیش ایسی باتوں کو خارج کر رہے ہیں ۔دنیش کے مطابق یہ سب کچھ میڈیا نے پھیلایا ہے۔ 
      First published: