உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چھوٹے بھائی نے تیار کی تھی موت کی ’ اسکرپٹ ‘، لکھا تھا- آخری وقت میں زمین ہلے گی لیکن ڈرنا نہیں

    براڑی معاملہ

    براڑی معاملہ

    دہلی کے براڑی میں اتوار کے روز ایک گھر میں 11 لاشیں ملنے کے معاملہ میں کرائم برانچ کی تحقیقات جاری ہے۔

    • Share this:
      دہلی کے براڑی میں اتوار کے روز ایک گھر میں 11 لاشیں ملنے کے معاملہ میں کرائم برانچ کی تحقیقات جاری ہے۔ اس معاملہ میں ایک کے بعد ایک متعدد چیزیں سامنے آرہی ہیں۔ پولیس نے دو رجسٹر برآمد کئے ہیں، جس میں 11 لوگوں کے موت کی اسکرپٹ لکھی گئی تھی۔ خاندان کے سربراہ کے چھوٹے بھائی للت نے رجسٹر میں کچھ نوٹ لکھے تھے۔کرائم برانچ کے مطابق، دونوں رجسٹروں میں چھوٹے بھائی للت کی رائٹنگ لگ رہی ہے، جس کی فرنیچر کی دکان تھی۔ دونوں رجسٹروں میں کچھ ایسی چیزیں لکھی ہیں، جو کئی طرح کے سوالات  کھڑے کرتی ہیں۔ رجسٹر میں لکھی ایک ایک بات واقعہ سے مل رہی ہے۔

      للت نے رجسٹر کے نوٹس میں لکھا تھا۔’ آخری وقت خواہش جب پوری ہوگی تو آسمان ہلے گا، زمین کانپے گی۔ اس وقت تم ڈرنا نہیں۔ منتروں کو اور بڑھا دینا۔ میں آکر تمہیں اتار لوں گا۔ دوسروں کو بھی اتارنے میں مدد کروں گا۔’ قابل ذکر ہے کہ للت کو خواب میں اس کے والد نظر آتے تھے۔ رجسٹر میں لکھی تمام باتوں کا یہ مطلب نکالا جا رہا ہے کہ یہ میسج للت کو اس کے والد نے دیا اورللت نے خاندان کے دیگر ارکان کو ویسا ہی کرنے کو کہا۔

      رجسٹر میں لکھی باتوں سے کافی ملتا ہے واقعہ

      رجسٹر میں ایک جگہ لکھا ہے کہ پٹیاں اچھے سے باندھنی ہے۔ واضح ہو کہ گھر سے جتنی بھی لاشیں برآمد ہوئی ہیں ان میں سے ایک کو چھوڑ کر سب کی آنکھوں پر پٹیاں بندھی تھیں۔ رجسٹر میں لکھا ہے کہ سات دن بعد مسلسل پوجا کرنی ہے۔ کوئی گھر میں آ جائے تو آئندہ جمعرات یا اتوار کو منتخب کریں۔ رجسٹر میں مزید لکھا ہے کہ بیبے(دادی) کھڑی نہیں ہو سکتی توالگ کمرے میں لیٹ سکتی ہیں۔ بیبے شائد اس بزرگ خاتون کو کہا گیا ہے جن کی لاش الگ کمرے میں سے برآمد کی گئی۔

      بچوں کے کانوں میں کیوں تھی روئی، آنکھوں میں کیوں چپکا تھا ٹیپ، ان 9 سوالات میں الجھا براڑی کیس

      بتایا جا رہا ہے کہ کنبہ کسی بابا کے چکر میں تھا۔ خاندان کے ایک قریبی رشتہ دار نے بھی پولیس کی پوچھ گچھ میں اس بابا کا نام لیا ہے۔ حالانکہ وہ سویمبھو بابا گزشتہ کئی برسوں سے جیل میں بند ہے۔ ایسے میں پولیس نے جب پوچھ گچھ میں دباو بنایا تو اس شخص نے کئی دوسرے باباوں کے نام بھی بتائے۔ حالانکہ، پولیس کے شک کی سوئی اسی پہلے والے بابا پر اٹکی ہے۔ کیونکہ جیل میں بند وہ بابا بھی ہری بھگوان کا ماننے والا بتایا جاتا ہے۔

      للت  کے بارے میں تحقیقات کر رہی پولیس

      کرائم برانچ اب للت کے زندگی سے متعلق ہر چیز پر غور کر رہی ہے اور پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے، جیسے

      للت کے کون کون سے دوست تھے؟

      اس کی طرز زندگی کیا تھی؟

      وہ کس کے سب سے زیادہ قریب تھا؟

      وہ کس کس سے ملتا تھا؟

      للت کا اپنے بھائی بہنوں سے کیسا رشتہ تھا؟ کوئی آپسی اختلافات تو نہیں تھے؟

      کیا للت ہی اپنے والد کا سب سے لاڈلا بیٹا تھا؟

      اس کے دماغ میں یہ کب سے خیال آیا کہ اس کے والد اس کو نظر آتے ہیں؟

      للت کی آواز کیسے گئی، اس کی ہر اینگل سے جانچ کی جائےگی؟

      کرائم برانچ ضرورت پڑنے پر ماہر نفسیات سے بھی مدد لے سکتی ہے۔

       
      First published: