உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آسام میں موہن بھاگوت نے کہا- سیاسی فائدے کے لئے سی اے اے - این آر سی کو بنایا ہندو مسلمان کا مسئلہ

    آسام میں موہن بھاگوت نے کہا- سیاسی فائدے کے لئے سی اے اے - این آر سی کو بنایا ہندو مسلمان کا مسئلہ

    آسام میں موہن بھاگوت نے کہا- سیاسی فائدے کے لئے سی اے اے - این آر سی کو بنایا ہندو مسلمان کا مسئلہ

    آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت (Mohan Bhagwat) نے کہا ہے کہ سی اے اے - این آر سی (CAA-NRC) سے ہندوستان کے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سربراہ موہن بھاگوت (Mohan Bhagwat) نے کہا ہے کہ سی اے اے - این آر سی (CAA-NRC) سے ہندوستان کے مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ہم نے کہا تھا کہ ہم اپنے ملک کے اقلیتوں کا خیال رکھیں گے۔ ہم نے کیا، لیکن پاکستان میں نہیں کیا۔ سرسنگھ چالک نے کہا کہ تقسیم کے وقت لیڈروں نے فیصلہ کر دیا؟ عوام نے مان لیا۔ اسے ماننے کے سبب جن کو بے دخل ہونا پڑ رہا ہے، ان کی تشویش کون کرے گا، ان کا کیا قصور ہے۔

      موہن بھاگوت نے دعویٰ کیا، ‘سیاسی فائدے کے لئے اس موضوع کو ہندو- مسلمان بنا دیا ہے‘۔ اس سے پہلے آر ایس ایس سربراہ نے آسام کے دو روزہ دورے کے دوران بدھ کو Citizenship Debate Over NRC & CAA: Assam and the Politics of History کا افتتاح کیا۔ اس تقریب میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما بھی موجود تھے۔



      کتاب کے اجرا کے بعد آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ مصنف نوین گوپال نے 3-2 سال پہلے بتایا تھا کہ وہ ایسی کتاب لکھنے والے ہیں۔ کتاب میں کیا ہوگا، اس کا خیال کئے بغیر میں نے ان کو ہاں کہہ دیا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس میں کیا ہوگا۔ موہن بھاگوت نے کہا، ’وہ جو بھی لکھیں گے حقائق اور تصدیق کی بنیاد پر لکھیں گے، حقائق کو کیسے رکھنا ہے یہ بھی ایک فن ہوتا ہے۔ حقائق کی تشریح کیسے بھی ہوسکتی ہے۔ کتاب کا نتیجہ آپ کے سامنے آگیا ہے‘۔

      ہم نے محسوس کیا ہے کہ ہمیں سی اے اے کی ضرورت کیوں؟ وزیر اعلیٰ

      پروگرام میں موجود وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شرما نے کہا کہ لسانی اور فرقہ وارانہ خطوط پر معاشرے میں کیل چلانے کے لئے سی اے اے مخالفت کے دوران لیفٹ لبرلز کے ذریعہ بہت غلط اطلاع پھیلائی گئی تھی۔ آسام میں حال ہی میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران بھی یہی گروپ سرگرم تھا۔ لیکن، ہم نے ان کے کھیل کو دیکھا ہے اور محسوس کیا ہے کہ ہمیں سی اے اے کی ضرورت کیوں ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: