ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ فائرنگ: سی اے اے احتجاج کے دوران گولی چلانے والے نوجوان کے بارے میں پولیس نے کیا یہ نیا انکشاف

جمعرات کو جامعہ میں سی اے اے احتجاجی مظاہرہ کے دوران ایک نوجوان نے گولی چلا دی تھی جس میں ایک طالب علمی شاداب فاروقی زخمی ہو گئے تھے۔

  • Share this:
جامعہ فائرنگ: سی اے اے احتجاج کے دوران گولی چلانے والے نوجوان کے بارے میں پولیس نے کیا یہ نیا انکشاف
جامعہ میں فائرنگ کے دوران لی گئی تصویر

نئی دہلی۔ جامعہ میں سی اے اے (CAA Protest) کے خلاف احتجاج کے دوران گولی چلانے والے نوجوان کو لے کر ایک نیا انکشاف ہوا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، 17 سالہ نوجوان کو اس کے گھر والوں نے شادی میں کپڑے خریدنے کے لئے دس ہزار روپئے دئیے تھے۔ نوجوان نے انہی پیسوں سے دیسی پستول خریدی تھی۔ نوجوان نے پولیس کی پوچھ گچھ میں بتایا کہ یہ پستول اس نے گوتم بدھ نگر رہائشی ایک 19 سال کے نوجوان سے خریدی تھی۔


غور طلب ہے کہ جمعرات کو جامعہ میں سی اے اے احتجاجی مظاہرہ کے دوران ایک نوجوان نے گولی چلا دی تھی جس میں ایک طالب علمی شاداب فاروقی زخمی ہو گئے تھے۔ جمعہ کو گولی چلانے والے اس نوجوان کو جوینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں سے اسے 14 دن کی نگرانی میں بھیجا گیا ہے۔


نئے سال 2020 کا آغاز ہونے پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء اور مقامی لوگوں نے قومی گیت گا کر سی اے اے کی مخالفت کی۔ فائل فوٹو


انڈین ایکسپریس سے بات چیت میں جانچ آفیسر نے بتایا کہ نوجوان جنوری 2018 میں یوپی کے کاس گنج میں چندن گپتا کے ہوئے قتل کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔ تقریبا دو سال پہلے یہ نوجوان آن لائن کچھ ایسے لوگوں کے رابطے میں آیا تھا جنہوں نے اسے یقین دلایا تھا کہ اس کا مذہب خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا ’ وہ بہت قریب سے ان لوگوں کی سوشل پوسٹ پر نظر رکھتا تھا اور وہ واٹس ایپ گروپ پر بھی بہت زیادہ سرگرم تھا۔ اس کے ساتھ ہی وہ شاہین باغ اور جامعہ میں شہریت ترمیمی قانون کو لے کر ہو رہی مخالفت سے بھی خاصا ناراض تھا‘۔

پولیس آفیسر نے کہا ’ جمعہ کو وہ نوجوان دوسری بار دلی آیا تھا۔ اس نے ہمیں بتایا کہ وہ روڈویج بس میں سوار ہو کر یہاں آیا تھا اور کالندی کنج میں بس سے اتر گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ دلی تب آیا تھا جب وہ محض سات سال کا تھا‘۔ اس نے پولیس سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایک سچا قوم پرست ہے اور اپنے مذہب کے لئے وہ مر بھی سکتا ہے۔ اس نے کہا ’ میں نے اپنا کام کیا اور وہ لوگ اسی کے لائق تھے‘۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Feb 01, 2020 11:38 AM IST