ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ڈیٹا لیک معاملہ: وہسل بلوور نے کھولے راز ، ہندوستان میں بھی کیا کام ، ذات کی معلومات مانگتی ہیں پارٹیاں

فیس بک ڈیٹا لیک معاملہ کے وہسل بلوور کرسٹوفر وائلی نے دعوی کیا ہے کہ ایک سیاسی پارٹی کے کہنے پر کیمبرج اینالیٹیکا نے سال 2012 میں اترپردیش میں ذات کی بنیاد پر مردم شماری کروائی تھی ۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ڈیٹا لیک معاملہ: وہسل بلوور نے کھولے راز ، ہندوستان میں بھی کیا کام ، ذات کی معلومات مانگتی ہیں پارٹیاں
فیس بک ڈیٹا لیک معاملہ کے وہسل بلوور کرسٹوفر وائلی نے دعوی کیا ہے کہ ایک سیاسی پارٹی کے کہنے پر کیمبرج اینالیٹیکا نے سال 2012 میں اترپردیش میں ذات کی بنیاد پر مردم شماری کروائی تھی ۔

نئی دہلی : فیس بک ڈیٹا لیک معاملہ کے وہسل بلوور کرسٹوفر وائلی نے دعوی کیا ہے کہ ایک سیاسی پارٹی کے کہنے پر کیمبرج اینالیٹیکا نے سال 2012 میں اترپردیش میں ذات کی بنیاد پر مردم شماری کروائی تھی ۔وائلی نے بدھ کو ایک ٹویٹ کیا کہ کئی ہندوستانی صحافیوں نے مجھ سے ہندوستانی انتخابات میں سی اے /ایس سی ایل کے رول کے بارے میں معلومات دریافت کی ہے ۔ میں ہندوستان کے کچھ پروجیکٹوں کی معلومات شیئر کررہا ہوں ۔ اس کے ساتھ ہی میں یہاں سب سے زیادہ پوچھے گئے سوال کا جواب دینا چاہوں گا ۔ ہاں ایس سی ایل /سی اے ہندوستان میں بھی کام کرتا ہے ۔ اس کے وہاں کئی دفاتر ہیں۔

اس ٹویٹ کے ساتھ کرسٹوفر نے تین گرافکس بھی شیئر کئے ہیں ۔ ان میں سے ایک تصویر میں سال 2003 سے 2012 تک ہندوستان کی الگ الگ ریاستوں میں ہوئے انتخابات کا ذکر ہے ۔ اس میں لکھا ہے کہ 2011-2012 میں ایک قومی سیاسی پارٹی کیلئے ایس سی ایل نے اترپردیش میں ذات پر مبنی مردم شماری کی ۔ اس دوران گھر گھر جاکر ذات کی بنیاد پر ووٹروں کی شناخت کی گئی ۔ اس کے ذریعہ پارٹی کے کورووٹرز اور اپنا ووٹ بدلنے والے ووٹروں کی شناخت کی گئی ۔ اس سے پہلے 2009 کے عام انتخابات میں ایس سی ایل نے کچھ امیدواروں کیلئے کام کیا ۔ اس میں سے ایک تصویر میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ کیرانہ میں ہر بوتھ کی ذات کی بنیاد پر اسٹڈی کی گئی تھی ۔

وہیں 2010 بہار انتخابات میں ایس سی ایل نے جنتادل یو کیلئے کام کیا ۔ اس الیکشن میں ایس سی ایل نے نہ صرف ووٹرس کے رویہ کا مطالعہ کیا بلکہ اس کی بنیاد پر پارٹی کیلئے انتخابی حکمت عملی بھی تیار کی ۔ اس الیکشن میں بھی ووٹرس کی ذات پر کافی توجہ دی گئی۔

اس کے علاوہ کمپنی نے 2007 میں اترپردیش ، کیرالہ ، مغربی بنگال ، آسام ، بہار اور جھارکھنڈ میں بھی کام کیا ۔ اس سے پہلے 2003 میں مدھیہ پردیش اور راجستھان اسمبلی انتخابات میں کمپنی نے ایک قومی پارٹی کیلئے کام کیا ۔ ان انتخابات میں ووٹروں کے ووٹنگ کے رویہ کا مطالعہ کیا گیا ۔ ان کے علاوہ دہلی اور چھتیس گڑھ میں بھی کمپنی کام کرچکی ہے۔



کرسٹوفر نے ہندوستان کا ایک نقشہ شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہاں غازی آباد کے اندراپورم میں ایس سی ایل /کیمبرج اینالیٹکا کا ہیڈ آفس ہے ۔ وہیں 10 شہروں احمد آباد ، بنگلورو ، پونے ، کٹک ، غازی آباد ، گوہاٹی ، حیدرآباد، اندور ، کولکاتہ اور پٹنہ میں اس کے علاقائی دفاتر ہیں۔
First published: Mar 28, 2018 06:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading