உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیا اس مرتبہ یو پی میں مسلم ووٹروں کا بھروسہ حاصل کر سکتی ہے AIMIM

     مسلم ووٹروں کا ایک بڑا طبقہ اویسی کی باتوں اور ارادوں سے تو متفق نظر آتا ہے لیکن اکیلے میدان میں اُتر کر بی جے پی کے لیے کسی طرح کا چیلنج پیش کرنے کی اُمید نہیں رکھتا۔ ووٹروں کا بڑا طبقہ مجلس کو محض ووٹ کاٹنے اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانے والی جماعت مانتا ہے۔

    مسلم ووٹروں کا ایک بڑا طبقہ اویسی کی باتوں اور ارادوں سے تو متفق نظر آتا ہے لیکن اکیلے میدان میں اُتر کر بی جے پی کے لیے کسی طرح کا چیلنج پیش کرنے کی اُمید نہیں رکھتا۔ ووٹروں کا بڑا طبقہ مجلس کو محض ووٹ کاٹنے اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانے والی جماعت مانتا ہے۔

    مسلم ووٹروں کا ایک بڑا طبقہ اویسی کی باتوں اور ارادوں سے تو متفق نظر آتا ہے لیکن اکیلے میدان میں اُتر کر بی جے پی کے لیے کسی طرح کا چیلنج پیش کرنے کی اُمید نہیں رکھتا۔ ووٹروں کا بڑا طبقہ مجلس کو محض ووٹ کاٹنے اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانے والی جماعت مانتا ہے۔

    • Share this:
    حیدرآباد حلقے سے باہر پہلی مرتبہ مہاراشٹرا میں شروعاتی سیاسی کامیابی حاصل کرنے کے بعد مجلس اتحاد المسلمین نے بہار اور بنگال میں اپنی قسمت آزمائی بنگال الیکشن میں مجلس کے تجربات تلخ رہنے کے بعد مجلس صوبے اتر پردیش میں اپنے قدم جمانے کے لئے ہر ممکن کوشش انجام دے رہی ہے۔ اب یو پی کے دو ہزار بائیس اسمبلی انتخابات کے ذریعہ پارٹی صوبے میں اپنی سیاسی زمین تلاش رہی ہے گزشتہ روز میرٹھ میں عوامی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے مجلس سربراہ اسد الدین اویسی نے خاص طور پر مسلم ووٹ بینک کو متوجہ کرنے کی کوشش اور مسلم ووٹروں سے متحد ہوکر مسلم قیادت کے لیے ووٹ کرنے کی اپیل کی لیکن میرٹھ ریلی میں بھیڑ جمع کرنے میں کامیاب رہے۔

    اویسی پر مسلم ووٹر کتنا بھروسہ رکھتے ہیں اس کا ملا جلا ردعمل نظر آ رہا ہے۔ یو پی جیسے ملک کی بڑی آبادی والے صوبے کی سیاست ذات برادری اور علاقائیت کی سیاست رہی ہے کانگریس کے بعد سماجوادی بی ایس پی اور بی جے پی نے ووٹ بینک کی سیاPostست کا بھرپور فائدہ حاصل کیا۔ مذہب اور طبقات کے نام پر جہاں ووٹ بینک کی سیاست نے یو پی جیسے صوبے میں ایک الگ طرح کا ماحول پیدا کیا، وہیں روایتی سیاست سے الگ پیس پارٹی اور اسی طرح کی دوسری سیاسی جماعتوں کے لئے ماحول بھی تیار کیا آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بھی اسی کڑی کی ایک نئی سیاسی جماعت ہے جو پسماندہ طبقے اور خاص طور پر اقلیت کے حق کی بات کرکے صوبے کی دیگر سیاسی جماعتوں کے سامنے خود کو ایک متبادل کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

    میرٹھ میں منعقدہ عوامی ریلی کے ذریعے اویسی نے مسلمانوں کو جو پیغام دینے کی کوشش کی اُس کا ایک طبقے اور خاص طور پر نوجوانوں میں اثر نظر آ رہا ہے۔ وہیں مسلم ووٹروں کا ایک بڑا طبقہ اویسی کی باتوں اور ارادوں سے تو متفق نظر آتا ہے لیکن اکیلے میدان میں اُتر کر بی جے پی کے لیے کسی طرح کا چیلنج پیش کرنے کی اُمید نہیں رکھتا۔ ووٹروں کا بڑا طبقہ مجلس کو محض ووٹ کاٹنے اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانے والی جماعت مانتا ہے۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: