ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

روہنگیا پناہ گزینوں کا مسئلہ حل کرنے کیلئے حکومت کررہی ہے موثر سفارتی اقدامات : مرکز

ہندوستانی حکومت ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مؤثر سفارتی اقدام کررہی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 16, 2018 09:24 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
روہنگیا پناہ گزینوں کا مسئلہ حل کرنے کیلئے حکومت کررہی ہے موثر سفارتی اقدامات : مرکز
فائل فوٹو

نئی دہلی : ہندوستانی حکومت ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مؤثر سفارتی اقدام کررہی ہے۔ یہ یقین دہانی ہندوستانی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ آف انڈیا کوکی گئی ہے۔ اس کیس سے متعلق ایک وکیل کے مطابق حکومت نے سپریم کورٹ میں اس تعلق سے جمعہ کو ایک حلف نامہ داخل کیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا، جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ پر مشتمل سہ رکنی بنچ نے حکم صادر کیا کہ وہ اس کیس کی شنوائی 19 مارچ بروز دوشنبہ کو کرے گی۔

عرضی گزاروں جس میں محمد سلیم اللہ نام کا ایک روہنگیا پناہ گزین بھی شامل ہے، نے سپریم کورٹ سے اس معاملہ میں مداخلت کرنے اورہندوستانی حکومت کو ان پناہ گزینوں کو میانمار واپس نہ بھجنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔ سینئر وکیل اور ماہر قانون پرشانت بھوشن نے جو کہ سلیم اللہ کے وکیل ہیں، سپریم کورٹ سے یہ درخواست کی تھی کہ انسانی بنیاد پر روہنگیا پناہ گزینوں کو اس وقت تک ہندوستان سے نکالا نہ جائے جب تک ان کی عرضی پرباقاعدہ طور سے تفصیلی سماعت پوری نہ ہوجائے۔

مسٹر بھوشن نے کورٹ سے یہ بھی گزارش کی تھی کہ جو روہنگیا ہندوستان آنا چاہتے ہوں ان کو زبردستی سرحدی سیکوریٹی فورس کے ذریعہ واپس نہ بھیجا جائے۔ فورس کے ذریعہ مبینہ طور پر چلی پاؤڈر(مرچ کا سفوف) کا استعمال کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر بھوشن نے کہا کہ یہ چیز پناہ گزینوں سے متعلق بین الاقوامی معاہدہ کی صریح خلاف ورز ی ہے۔

مسٹر بھوشن نے کہا تھا کہ اپنے ملک میں ظلم و زیادتی کا شکار روہنگیا مسلمانوں میں سے جو لوگ یہاں آنا چاہتے ہیں ان کو روکنے کی ہندوستانی حکومت کی کوشش پر کورٹ قدغن لگائے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے اس معاملہ میں ایڈیشنل سولیسائٹر جنرل تشار مہتا اس کیس میں پیروی کررہے ہیں۔

First published: Mar 16, 2018 09:23 PM IST