ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیرمیں قالین بافی کے دستکار اپنی انگلیوں میں بھرے جادوئی ہنر سے اس صنعت کو رکھے ہوئے ہیں قائم

بتایا جاتاہے کہ کشمیرکی تاریخ میں پہلی بار وائیلو کنزر میں دستکار ایک بڑا قالین بنارہے ہیں۔ یہ قالین لمبائی میں بہتر 72 فٹ اورچوڑائی میں چالیس 40 فٹ ہے یعنی 2880 دوہزارآٹھ سواسی فٹ پر مشتمل یہ قالین تیارہورہا ہے۔

  • Share this:
کشمیرمیں قالین بافی کے دستکار اپنی انگلیوں میں بھرے جادوئی ہنر سے اس صنعت کو  رکھے ہوئے ہیں قائم
بتایا جاتاہے کہ کشمیرکی تاریخ میں پہلی بار وائیلو کنزر میں دستکار ایک بڑا قالین بنارہے ہیں۔ یہ قالین لمبائی میں بہتر 72 فٹ اورچوڑائی میں چالیس 40 فٹ ہے یعنی 2880 دوہزارآٹھ سواسی فٹ پر مشتمل یہ قالین تیارہورہا ہے۔

وادی کشمیرمیں قالین بافی کے دستکار اپنی انگلیوں میں بھرے جادوئی ہنرسے اس صنعت کوزندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ قالین بافی میں دستکاروں کی تعداداب کم ہورہی ہے. تاہم اس کے باوجود کنزر کے وائیلوں میں کچھ دستکار اس صنعت کوزندہ رکھتے ہوئے قالین بافی میں ایک نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ کشمیرکی تاریخ میں پہلی بار وائیلو کنزر میں دستکار ایک بڑا قالین بنارہے ہیں۔ یہ قالین لمبائی میں بہتر 72 فٹ اورچوڑائی میں چالیس 40 فٹ ہے یعنی 2880 دوہزارآٹھ سواسی فٹ پر مشتمل یہ قالین تیارہورہا ہے۔ دستکاروں کے مطابق پہلی بار اپنی نوعیت کا اتنابڑاقالین تیارہورہاہے۔ حبیب الله شیخ نامی دستکار نے نیوز 18ا ردو کو بتایا کہ اپنے صحن میں انہوں نے علیحدہ دومنزلہ کارخانہ تعمیرکیا ہےجس میں اس قالین کو بُنانے کے لئے تمام سازوسامان نصب کیاگیا۔ دستکاروں کاکہنا ہے کہ یہ قالین سات سالوں میں مکمل ہوگا۔ اس کی قی


مت کروڑوں روپئےہوگی۔ وائیلوں میں دوہزار سولہ میں اس قالین کی بنائی کاکام شروع کیاگیا ۔بیس سے پچیس دستکاربیک وقت اس قالین بُنانے میں کام کررہے ہیں۔حبیب الله شیخ نےنیوز 18اردوکو مزیدکہاکہ یہ کشمیرمیں پہلا اتنابڑاقالین ہے۔انہوں نے کہاکہ ایک سال تک اس قالین کوبنانے کےلئے پہلےصلح مشورہ کرناپڑا،اوردستکاروں کواس قالین بنانے کے لئےاعتماد میں لیناپڑا۔غلام محمدبٹ نامی دستکارنےبھی نیوز18اردوکوبتایاکہ انکی زندگی میں پہلی باراس طرح کابڑاقالین بن رہاہے اور اکیلے میں اس طرح کاقالین بنانادشوارگزارکام ہے۔ فیاض احمدنامی دستکارنے نیوز 18 اردو کوکہاکہ وہ تئیس برسوں سے اس صنعت سے وابستہ ہیں یہاں اس قالین بنانے میں وہ پچھلے پانچ سالوں سے کام کررہے ہیں۔


انہوں نے بتایا کہ بیس دستکاربیک وقت اس قالین بنانے کےکام میں جڑے رہتے ہیں ۔ قالین بافی کےاس صنعت سے وابستہ لوگ حکومت کی جانب سے کوئی خاص مددنہ ملنے پرمایوس ہیں۔ان دستکاروں کاکہناہےکہ حکومت دستکاروں کے لئےکوئی معاون اسکیم متعارف نہیں کرتی ہے۔ مشینوں سے تیارکردہ قالین اورحکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے یہ صنعت دم توڑتی ہوئی نظرآتی ہے۔کاریگروں کامزیدکہناہے کہ اس کام میں کاریگر کی جوکمائی ملتی ہے اس سے ان کاچولہابھی نہیں جلتا، یہی وجہ ہے کہ یہ صنعت زوال پذیرہورہی ہے۔ غلام محمدبٹ نامی دستکار نے بتایاکہ نیوز18اردوکی جانب سے اگر ان دستکاروں کی یہ فریادحکومت تک پہنچےتاکہ حکومت کچھ نئی اسکیمیں متعارف کرسکیں۔بین الاقوامی سطح پرکشمیری قالین ہرمعیار پر سرفہرست ہوتاہے۔ تاہم قالین بافی میں روزانہ معمولی سی مزدوری ملنےپردستکارکافی مایوس ہیں۔


دستکاروں کاکہناہے کہ پرانے دور میں انہیں اچھی خاصی مزدوری ملتی تھی تاہم آج انہیں وہ مزدوری نہیں مل پاتی ۔اسی وجہ سے نئی نسل بھی اس صنعت سے دوری اختیارکرتی ہوئی نظرآتی ہے ۔وادی کشمیرمیں اب انگلیوں پرگنے چنےقدیم اورروایتی دستکارہی اسکام سے جڑے ہوئے ہیں ۔تاہم انہیں بھی یہ ڈر ستانے لگاہے کہ کہیں آنے والے وقت میں یہ صنعت دم نہ توڑجائے اور کشمیر اپنی ایک شاندار شناخت سے محروم ہوجائے۔کشمیری قالین صنعت کونئی جلا بخشنے،جدیدتقاضوں کے عین مطابق بنانے اوردم توڑتی قالین بافی میں نئی روح پھونکنے کے لیے اہم اور موثراقدامات اٹھانےکی ضرورت ہے ۔
Published by: sana Naeem
First published: Nov 18, 2020 09:23 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading