ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

50 بچوں کا جنسی استحصال کرکے فحش ویڈیو بناکر پورن سائٹس کو بیچے، سی بی آئی نے انجینئر کو کیا گرفتار

بتایا جا رہا ہے کہ یہ ملزم شخص دس سال سے اس گھنونے کام کو انجام دیتا آرہا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ نہ صرف ویڈیو اور تصویریں قید کرتا بلکہ پورن سائٹ کو بیچتا تھا۔ چھاپہ ماری کے دوران سی بی آئی کی ٹیم کو کئی پین ڈرائیو، میموری کارڈ، ویب کیمرا بھی برآمد کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کافی تعداد میں سیکس ٹوائز (several sex toys ) بھی برآمد کئے گئے ہیں۔

  • Share this:
50 بچوں کا جنسی استحصال کرکے فحش ویڈیو بناکر پورن سائٹس کو بیچے، سی بی آئی نے انجینئر کو کیا گرفتار
چھاپہ ماری کے دوران کئی معصوم اور نابالغ لڑکیوں کی فحش ویڈیو (CSAM content ) اور اسٹیل فوٹو گراف برآمد ہوئے ہیں۔

سی بی آئی (CBI) نے گزشتہ 10 سال سے بچوں کا مبینپ طور ہراساں کرنے اور ان کے ویڈیو و تصویروں کو دنیا میں دیگر ایسی بیمار گھٹیا سوچ والے لوگوں کو بیچنے کے معاملے میں یوپی آبپاشی محکمہ کے ایک جونیئر انجینئر رام بھون (Junior Engineer Rambhavan) کو گرفتار کر لیا ہے۔ افسران نے منگل کو بتایا کہ ملزم جونیئر انجینئر پر چترکوٹ، باندا اور حمیرپور ضلعوں میں سے 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریبا 50 بچوں کے ساتھ انتہائی گھنونا کام کرنے کا الزام ہے۔ سی بی آئی (CBI) نے ایک ایسے ملزم کو گرفتار کیا ہے جو چھوٹے۔چھوٹے معصوم بچوں کا فحش ویڈیو بناکر کچھ خاص سوشل میڈیا کی معرفت سے اسے پورن Porn سائٹ کو بیچتا تھا۔ سی بی آئی کے افسران کے مطابق ملزم رام بھون جو یوپی (Uttar Pradesh) کے چترکوٹ علاقے کا رہنے والا ہے۔ اس ملزم شخص کے خلاف کافی وقت سے سی بی آئی کو ان پٹ مل رہے تھے اس کے بعد سی بی آئی نے اس معاملے میں ایک خصوصی ٹیم کی تشکیل کرکے اس معاملے میں ملزم رام بھون کو گرفتار کیا ہے۔


سی بی آئی نے جب معصوم بچوں (Sexual Abuse of children ) سے جڑے اس معاملے کو درج کیا اور اس کے بارے میں تفتیش کرنی شروع کی تھی جس کے بعد 17 نومبر کو دیر شام تک باندا چترکوٹ کئی لوکیشن پر چھاپہ ماری کی گئی۔ چھاپہ ماری کے دوران کئی کمپیوٹر، موبائل فون سمیت کئی الیکٹرابنک آلات کو ضبط کیا گیا جسے کھنگالنے کا کام کیا جا رہا ہے۔


چھاپہ ماری کے دوران کئی معصوم اور نابالغ لڑکیوں کی فحش ویڈیو (CSAM content ) اور اسٹیل فوٹو گراف برآمد ہوئے ہیں۔ سی بی آئی کے مطابق کئی معصوم لڑکیوں کے ساتھ ان کا جنسی استحصال (physical abuse ) کرنے کے دوران ان کا ویڈیو بنا جاتا تھا جسے ڈارک ویب (Darkweb for sale ) کے ذریعے اس کی بولی لگائی جاتی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ ملزم شخص دس سال سے اس گھنونے کام کو انجام دیتا آرہا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی انکشاف ہوا کہ یہ نہ صرف ویڈیو اور تصویریں قید کرتا بلکہ پورن سائٹ کو بیچتا تھا۔ چھاپہ ماری کے دوران سی بی آئی کی ٹیم کو کئی پین ڈرائیو، میموری کارڈ، ویب کیمرا بھی برآمد کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کافی تعداد میں سیکس ٹوائز (several sex toys ) بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ ان ویڈیو کو بیچنے کے بعد کو لاکھوں کروڑوں روپئے حاصل کئے گئے تھے اس میں سے آٹھ لاکھ روپئے نقد برآمد کر لئے گئے ہیں۔


سی بی آئی کی ٹیم نے جب ملزم رام بھون سے پوچھ۔گچھ کی تو یہ ایہم جانکاری سامنے آئی لہ ہندستان کے ساتھ ساتھ کئی دیگر بیرون ممالک میں بھی اس ملزم کا کنکش ہے۔ غیر ممالک میں ان فحش ویڈیو کی کافی مانگ رہی ہے۔ لہذا سی بی آئی کی ٹیم اب ان غیر ممالک ملزموں کے خلاف بھی تفتیش میں مصروف ہو گئی ہے۔ ضرورت پڑنے پر اس کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے سی بی آئی کی ٹیم انٹرپول یا اس ملک سے متعلق انتظامیہ افسران کو خط لکھ سکتی ہے جس سے اس چائلڈ پورن اور فحش حرکت کو انجام دینے والوں پر لگام لگ سکے۔

جانکاری کے مطابق اس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ بچوں کو اس بارے میں منھ بند رکھنے کیلئے موبائل فون اور دیگر الیکٹرانک آلات دیتا تھا۔ اس معاملے میں باندا کے ایس پی سدھارتھ شنکر مینا نے کہا کہ ملزم شخص کے خلاف دفعہ 377 آئی پی سی پاسکو ایکٹ کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Nov 18, 2020 09:44 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading