உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    CBI: اسکولی طالبہ کی خودکشی کی سی بی آئی کرے گی جانچ، مدراس ہائی کورٹ نے دیاحکم

    سی بی آئی (فائل فوٹو)

    سی بی آئی (فائل فوٹو)

    تمل ناڈو کے اسکولی تعلیم کے وزیر انبل مہیش پویاموزی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ حکام اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے موجودہ اور سابق طلبا سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ یہ اسکول عیسائی مشنری چلا رہا ہے، لیکن اس اسکول میں کافی تعداد میں ہندو طلبا بھی پڑھتے ہیں۔

    • Share this:
      مدراس ہائی کورٹ (Madras High Court) نے پیر کے روز تمل ناڈو کے تھانجاور (Thanjavur) میں ایک 17 سالہ لڑکی کی مبینہ خودکشی کی جانچ کا حکم جاری کردیا ہے۔ اب اس کیس کو جبری تبدیلی مذہب کی کوشش کے الزامات کے درمیان مرکزی تفتیشی بیورو (CBI) کو سونپ دیا گیا ہے۔ تھانجاور کے ایک مشنری اسکول کے بارویں جماعت کی طالبہ کی خودکشی کی مبینہ کوشش کے 10 دن بعد 19 جنوری کو تھانجاور کالج اسپتال میں موت ہوگئی تھی۔ لڑکی نے 15 جنوری 2022 کے روز وارڈن پر الزام لگایا تھا کہ انھوں سے اس سے جبری تبدیلی مذہب کی کوشش کی تھی۔

      ایف آئی آر کے مطابق طالبہ اسکول کے ہاسٹل میں رہ رہی تھی۔ وارڈن نے مبینہ طور پر 9 جنوری 2022 کو اسے گھریلو کام کرنے پر مجبور کیا۔ تھانجاور کے جوڈیشل مجسٹریٹ کی طرف سے لڑکی کے مرنے کے اعلان کے بعد تھروکاٹوپلی پولیس نے وارڈن کو گرفتار کر لیا تھا۔ تاہم ضلع میں بی جے پی کے ارکان اور دائیں بازو کے گروپوں نے دعویٰ کیا کہ لڑکی کی موت خودکشی سے ہوئی تھی کیونکہ اسے عیسائیت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

      تمل ناڈو کے اسکولی تعلیم کے وزیر انبل مہیش پویاموزی نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ حکام اس دعویٰ کی تصدیق کے لیے موجودہ اور سابق طلبا سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ یہ اسکول عیسائی مشنری چلا رہا ہے، لیکن اس اسکول میں کافی تعداد میں ہندو طلبا بھی پڑھتے ہیں۔

      انھوں نے کہا کہ اگرچہ لڑکی کو عیسائیت اختیار کرنے پر مجبور کرنے کا الزام بظاہر دور کی بات ہے، تاہم طلبا اور جو اسکول سے پاس آؤٹ ہوئے تھے ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق پویاموزی نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ وارڈن لڑکی یا اس کے والدین کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتا تھا۔ وزیر نے کہا کہ یہ غلط معلوم ہوتا ہے کیونکہ وارڈن جسے پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: