உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جی ہاں، میں وزیر اعظم مودی کا چمچہ ہوں اور مجھے فخر ہے: پہلاج نہلانی

    نئی دہلی۔  فلم 'اڑتا پنجاب' کو لے کر بالی ووڈ اور سینسر بورڈ کے درمیان لڑائی مسلسل تیز ہوتی جا رہی ہے۔

    نئی دہلی۔ فلم 'اڑتا پنجاب' کو لے کر بالی ووڈ اور سینسر بورڈ کے درمیان لڑائی مسلسل تیز ہوتی جا رہی ہے۔

    نئی دہلی۔ فلم 'اڑتا پنجاب' کو لے کر بالی ووڈ اور سینسر بورڈ کے درمیان لڑائی مسلسل تیز ہوتی جا رہی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔  فلم 'اڑتا پنجاب' کو لے کر بالی ووڈ اور سینسر بورڈ کے درمیان لڑائی مسلسل تیز ہوتی جا رہی ہے۔ اس لڑائی کے درمیان بورڈ صدر پہلاج نہلانی کا ایک بیان خاصا چرچا میں آ گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ خود کو وزیر اعظم نریندر مودی کا چمچہ کہنے میں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ایک ہندی چینل کے ساتھ بات چیت میں نہلانی نے یہ بات کہی۔

      انہوں نے کہا،ہاں، میں مودی جی کا چمچہ ہوں، اپنے وزیر اعظم کا چمچہ ہونے میں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ میں سوا سو کروڑ میں سے ہی ایک ہندوستانی ہوں۔ میں اپنے وزیر اعظم کا چمچہ نہیں ہوں گا تو کیا اٹلی کے وزیر اعظم کا چمچہ ہوں گا۔ ' نہلانی نے مزید کہا، 'کچھ لوگ جان بوجھ کر متنازعہ فلمیں بناتیں ہیں۔ سنا ہے پنجاب کی شبیہ خراب کرنے کے لئے کشیپ ' عآپ' سے پیسہ لے کر اس فلم کے ذریعے تنازعہ کھڑا کر رہے ہیں۔

      انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے یہ کہنے میں حرج نہیں ہے کہ میں مودی جی کا بھکت تب سے ہوں جب وہ وزیر اعلی نہیں تھے۔ پی ایم کا کام کرنے کا طریقہ مجھے پسند ہے، وہ ملک میں دکھائی دے رہا ہے۔ نہلانی نے الزام لگایا ہے کہ فلمساز انوراگ کشیپ 'عآپ' سے پیسہ لے کر تنازعہ کو طول دے رہے ہیں۔ فلم کے 73 فیصد حصے کو منظوری دی گئی ہے۔

      دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے سینسر بورڈ کے چیئرمین پہلاج نہلانی کے اس الزام کو مسترد کر دیا کہ 'عآپ' نے فلم 'اڑتا پنجاب' بنانے والوں کو پیسے دے کر کہا ہے کہ وہ ریاست کو غلط طریقے سے دکھائیں۔ کیجریوال نے کہا کہ نہلانی کا بیان یہ اشارہ ہے کہ انہوں نے 'بی جے پی کی ہدایت پر فلم روکنے کا کام کیا ہے۔

       

       

       
      First published: