உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزارت صحت نے دی جانکاری ، کہاں جارہی ہے کورونا کیلئے بیرون ممالک سے آرہی مدد

    وزارت صحت نے بتایا ہے کہ اب تک 2933 آکسیجن کنسینٹریٹر ، 2429 آکسیجن سلنڈر ، 13 آکسیجن پلانٹ ، 2951 وینٹی لیٹرس اور تقریبا تین لاکھ ریمیڈیسور ایجیکشن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو دئے گئے ہیں ۔

    وزارت صحت نے بتایا ہے کہ اب تک 2933 آکسیجن کنسینٹریٹر ، 2429 آکسیجن سلنڈر ، 13 آکسیجن پلانٹ ، 2951 وینٹی لیٹرس اور تقریبا تین لاکھ ریمیڈیسور ایجیکشن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو دئے گئے ہیں ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : مرکزی سرکاری نے جانکاری دی ہے کہ ہندوستان میں دوسری لہر کے درمیان بیرون ممالک سے آرہی میڈیکل آلات کی مدد کہاں جارہی ہے ۔ وزارت صحت نے بتایا ہے کہ اب تک 2933 آکسیجن کنسینٹریٹر ، 2429 آکسیجن سلنڈر ، 13 آکسیجن پلانٹ ، 2951 وینٹی لیٹرس اور تقریبا تین لاکھ ریمیڈیسور ایجیکشن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں کو دئے گئے ہیں ۔ وزارت نے بتایا ہے کہ 6 مئی کو نیوزی لینڈ سے 72 آکسیجن کنسینٹریٹر ، جرمنی سے ایک موبال آکسیجن پلانٹ ، نیدر لینڈ سے 450 وینٹی لیٹر اور 100 آکسیجن کنسینٹریٹر آئے ہیں ۔

      بتادیں کہ کانگریس صدر راہل گاندھی نے مرکزی سرکار سے سوال کیا تھا کہ کورونا وبا سے نمٹنے کیلئے آئی بیرون ممالک سے امداد کو لے کر کوئی شفافیت کیوں نہیں ہے ۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ کورونا سے وابستہ غیرملکی مدد کو لے کر سوال : ہندوستان کو کل کتنی سپلائی ہوئی ہے ؟ وہ سپلائی کہاں گئی ؟ ان سے کن کو فائدہ مل رہا ہے ؟ ریاستوں کو انہیں کیسے تقسیم کیا گیا ؟ کوئی شفافیت کیوں نہیں ہے ؟ ہندوستان سرکار ، کوئی جواب ہے ؟ ۔ راہل گاندھی نے گروگرام کے ایک اسپتال میں آکسیجن کی مبینہ کمی سے کئی مریضوں کی موت ہونے سے متعلق ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ قتل ہے ، اس کو چھپایا جارہا ہے ۔ متاثرین کے اہل خانہ کے تئیں میری ہمدردی ۔

      راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھ کریہ الزام بھی لگایا کہ سرکار کی ناکامی کی وجہ سے ملک ایک مرتبہ پھر سے قومی سطح کے لاک ڈاون کے دہانے پر کھڑا ہوگیا ہے اور ایسے میں غریبوں کو فوری مالی مدد دی جائے ۔ تاکہ انہیں گزشتہ سال کی طرح درد برداشت نہ کرنا پڑاے ۔ ان کے مطابق اس وائرس کا بے قابو طریقہ سے پھیلنا نہ صرف ہمارے ملک کے لوگوں کیلئے خطرناک ہوگا بلکہ باقی دنیا کیلئے بھی ہوگا ۔

      انہوں نے وزیر اعظم مودی کو مشورہ دیا کہ اس وائرس اور اس کی مختلف شکلوں کے بارے میں سائنسی طریقہ سے پتہ لگایا جائے ۔ سبھی نئے میوٹیشن کے خلاف ٹیکوں کے اثر کا جائزہ لیا جائے ۔ سبھی لوگوں کوتیزی سے ٹیکہ لگایا جائے ۔ شفافیت برتی جائے اور باقی دنیا کو ہمارے نتائج کے بارے میں واقف کرایا جائے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: