ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کے خلاف کام کررہی ہے مودی سرکار

علی گڑھ : مرکز کی مودی حکومت اپنے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کے خلاف کام کررہی ہے ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملہ میں سپریم کورٹ میں حکومت کے ذریعہ موقف تبدیل کیا جانا ، اس کی ایک مثال ہے ، جس سے علیگ برادری میں مایوسی ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیرا لدین شاہ نے یہ باتیں ایک میڈیا بریفنگ میں کہیں۔

  • ETV
  • Last Updated: Feb 27, 2016 05:31 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کے خلاف کام کررہی ہے مودی سرکار
علی گڑھ : مرکز کی مودی حکومت اپنے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کے خلاف کام کررہی ہے ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملہ میں سپریم کورٹ میں حکومت کے ذریعہ موقف تبدیل کیا جانا ، اس کی ایک مثال ہے ، جس سے علیگ برادری میں مایوسی ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیرا لدین شاہ نے یہ باتیں ایک میڈیا بریفنگ میں کہیں۔

علی گڑھ : مرکز کی مودی حکومت اپنے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعرہ کے خلاف کام کررہی ہے ۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے معاملہ میں سپریم کورٹ میں حکومت کے ذریعہ موقف تبدیل کیا جانا ، اس کی ایک مثال ہے ، جس سے علیگ برادری میں مایوسی ہے ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ضمیرا لدین شاہ نے یہ باتیں ایک میڈیا بریفنگ میں کہیں۔


وائس چانسلر نے مینجمنٹ کمپلکس کی بلڈنگ کے افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اے ایم یو کے اقلیتی کردار کے مسئلہ پر سیاسی ، سماجی اور ملی لوگوں سے مسلسل ملاقات کررہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ اے ایم یو کا اقلیتی کردار ادارہ کے لئے کتنا ضروری ہے ۔ 4 اپریل کو کیس کی سماعت پریم کورٹ میں ہے۔ اس کے لئے ہم پوری تیاری کررہے ہیں۔


ضمیر الدین شاہ کے ذریعہ مرکزی حکومت کو مورد الزام ٹھہرائے جانے کا علیگ برادری نے خیر مقدم کیا ۔ علیگ برادری کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر نے حقائق پر مبنی بات کہی ہے۔ حکومت کے موقف میں تبدیلی سے اس سیکولر طبقہ کو واقعی تکلیف ہوئی ہے ، جو مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو بخوبی جانتے ہیں۔ حکومت صرف ایک کمیونٹی کی سربراہی نہیں کرتی ہے۔


خیال رہے کہ ضمیر الدین شاہ یہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار کا مسئلہ ا ے ایم یو کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ، کیونکہ کسی بھی قوم کی زندگی اس کی تعلیم سے ہوا کرتی ہے ۔ سپریم کورٹ میں مذکورہ مقدمہ کی اگلی سماعت پر پوری علیگ برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔


ٹیچروں نے بھی وائس چانسلر کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان کے بیان کو بالکل درست قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 125 کروڑ عوام میں 25 کروڑ مسلمان بھی ہیں ، لیکن مرکزی حکومت مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے پر آمادہ ہے۔ سپریم کورٹ میں اس کے جنرل نے جس طرح سے اپنی پالیسی کا اظہار کیا ہے ، اس سے قطعی نہیں لگتا ہے وہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کے اپنے وعدے پر عمل پیرا ہیں۔

First published: Feb 27, 2016 05:26 PM IST