உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انفارمیشن کمیشن کی اطلاع کون دے گا؟ کمیشن کے پاس نہیں ہے کوئی تفصیل

    نئی دہلی: بڑی عجیب بات ہے کہ جس ادارے کو اطلاع فراہم کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس کے پاس اپنے ہی ادارے میں اٹھائے گئے اقدامات اور کارروائی کی اطلاع نہیں ہے۔اطلاعات حاصل کرنے میں آئی پریشانیوں سینٹرل انفارمیشن کمیشن کے تحت ہوتا ہے۔

    نئی دہلی: بڑی عجیب بات ہے کہ جس ادارے کو اطلاع فراہم کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس کے پاس اپنے ہی ادارے میں اٹھائے گئے اقدامات اور کارروائی کی اطلاع نہیں ہے۔اطلاعات حاصل کرنے میں آئی پریشانیوں سینٹرل انفارمیشن کمیشن کے تحت ہوتا ہے۔

    نئی دہلی: بڑی عجیب بات ہے کہ جس ادارے کو اطلاع فراہم کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس کے پاس اپنے ہی ادارے میں اٹھائے گئے اقدامات اور کارروائی کی اطلاع نہیں ہے۔اطلاعات حاصل کرنے میں آئی پریشانیوں سینٹرل انفارمیشن کمیشن کے تحت ہوتا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: بڑی عجیب بات ہے کہ جس ادارے کو اطلاع فراہم کرانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، اس کے پاس اپنے ہی ادارے میں اٹھائے گئے اقدامات اور کارروائی کی اطلاع نہیں ہے۔اطلاعات حاصل کرنے میں آئی پریشانیوں سینٹرل انفارمیشن کمیشن کے تحت ہوتا ہے۔ آرٹی آئی کے تحت طلب کی گئی معلومات پر ٹال مٹول کرنے والے محکموں پر کمیشن ہی آخري فیصلہ کرتا ہے، لیکن دلچسپ ہے کہ کمیشن کے فیصلے پر عمل ہوا ہے یا نہیں، اس کی معلومات خود کمیشن کے پاس نہیں ہے۔
      معاملہ معلومات نہ دینے پر وصول کئے گئے جرمانے سے متعلق ہے۔  بھاگلپور کے اجیت سنگھ کی ایک آرٹی آئی میں 20 مارچ 2018 کو سماعت ہوئی ہے۔جس میں دلچسپ بات یہ سامنے آئی ہے کہ کمیشن کے پاس اپنے فیصلے میں لگائے گئے جرمانے کی وصولی ہونے یا نہ ہونے کا کمیشن کے پاس ڈیٹا موجود نہیں ہے۔کمیشن 2005 سے چل رہا ہے، کمیشن کے پاس اتنے سالوں میں ہوئی کارروائی کی تفصیلات نہیں ہے۔ واضح رہے کہ اسی مسئلہ پر آر ٹی آئی کے ذریعہ سینٹرل انفارمیشن کمیشن سے معلومات طلب کی گئی تھی، جس کا طویل وقت تک کوئی جواب نہیں ملا اور معاملہ مرکزی انفارمیشن کمیشن میں سماعت کے لئے پہنچ گیا۔
      اس دوران فیصلہ سنا رہے انفارمیشن کمشنر دبیا پرکاش سنہا نے کمیشن کے لیگل سیل کے کنسلٹنٹ کشور کمار پکھرال اور سی پی آئی او کے رویے پر سخت ناراضگی ظاہر کی اور مستقبل کےلئے انہیں وارننگ بھی دی۔ اسے لے کر جب سینٹرل انفارمیشن کمشنر سنہا سے رابطہ کیاگیا، لیکن ان کے پرائیویٹ سکریٹری کی طرف سے کہاگیا کہ " سماعت کے بعد آیافیصلہ ہی ان کا بیان ہے۔ـ"سنہا کے سکریٹری نے کہاکہ فیصلے کے بعد عہدیداران نے درخواست دہندہ کو معلومات مہیا کرائی ہے یا نہیں، اس کی اطلاع انہیں نہیںہے اور نہ ہی وہ اس معاملے میں کوئی کارروائی کرنے جارہے ہیں۔ لیکن اگر درخواست دہندہ بے اطمینانی کااظہار کرتے ہوئے حکم کی تعمیل نہ ہونے کی شکایت کرتا ہے تو پھر سماعت کی جائے گی اور کارروائی کی جائے گی۔
      First published: