உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اٹاری بارڈر پر 102 کلو ہیروئن برآمد، international market میں قیمت 700 کروڑ، یہ کھیپ پاکستان کے راستے لائی گئی ہندستان

    Youtube Video

    Drugs in punjab: کسٹم ڈپارٹمنٹ (customs department) نے بتایا کہ اس طرح کی لکڑی کے لٹھوں کا کل وزن 475 کلو گرام تھا، جس میں سے 102 کلوگرام ہیروئن برآمد کی گئی جس کی international market میں قیمت 700 کروڑ روپے ہے۔ ہیروئن کی یہ کھیپ افغانستان Afghanistan سے پاکستان pakistan کے راستے بھارت لائی گئی تھی۔

    • Share this:
      Drugs in punjab: کسٹمز ڈپارٹمنٹ نے اتوار کو پنجاب کے اٹاری بارڈر پر ملیٹھی کی ایک کھیپ میں چھپائی گئی سو کلو گرام سے زیادہ ہیروئن ضبط کی ہے، جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمت تقریباً سات سو کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ ملیٹھی کی یہ کھیپ افغانستان سے آئی ہے۔ محکمہ کسٹمز کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان کے مطابق، امرتسر کسٹمز کمشنریٹ کے تحت انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ اٹاری سے کل ایک سودو کلو گرام ہیروئن ضبط کی گئی۔ سرکاری بیان کے مطابق، ہیروئن کو دہلی کے ایک شخص نے افغانستان سے درآمد کی گئی ملیٹھی کی کھیپ میں چھپایا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ معاملے کی تفصیلی جانچ کی جا رہی ہے۔

      کسٹم ڈپارٹمنٹ (customs department) نے بتایا کہ اس طرح کی لکڑی کے لٹھوں کا کل وزن 475 کلو گرام تھا، جس میں سے 102 کلوگرام ہیروئن برآمد کی گئی جس کی international market میں قیمت 700 کروڑ روپے ہے۔ ہیروئن کی یہ کھیپ افغانستان Afghanistan سے پاکستان pakistan کے راستے بھارت لائی گئی تھی۔ غور طلب ہے کہ پنجاب میں بھگونت مان حکومت نے منشیات Drugs کی روک تھام کے لیے ایک بڑی مہم شروع کر رکھی ہے، اس کے باوجود آئے روز کئی نوجوان منشیات کے اوور ڈوز سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:  CSK کے سلامی بلے باز نے IPL کے بیچ رچائی گرل فرینڈ سے شادی، تصویریں ہوئیں وائرل

      مزید پڑھیں: نہیں تھم رہی Coronavirus کی رفتار، گزشتہ 24 گھنٹے میں2541 نئے کیس، 30 کی موت

      قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہندوستان آئی سی پی، اٹاری میں افغانستان سے خشک میوہ جات، تازہ پھل اور جڑی بوٹیاں درآمد کرتا ہے۔ اس سے قبل جون 2019 میں، کسٹمز حکام نے افغانستان سے درآمدات آئی سی پی اٹاری سے ہندوستان میں سب سے بڑے برآمدگی میں سے ایک 532.6 کلوگرام ہیروئن کو ضبط کیا تھا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: