உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چھتیس گڑھ کے معطل اے ڈی جی کی عرضی پر سپریم کورٹ نے کہا : وصولی کریں گے تو سود سمیت چکانا ہوگا

    چھتیس گڑھ کے معطل اے ڈی جی کی عرضی پر سپریم کورٹ نے کہا : وصولی کریں گے تو سود سمیت چکانا ہوگا

    چھتیس گڑھ کے معطل اے ڈی جی کی عرضی پر سپریم کورٹ نے کہا : وصولی کریں گے تو سود سمیت چکانا ہوگا

    عدالت نے کہا کہ یہ بہت زیادہ ہو رہا ہے ، ہم ایسے افسران کو تحفظ کیوں دیں؟ یہ ملک میں ایک نیا ٹرینڈ ہے ۔ انہیں جیل جانا ہوگا ۔ حالانکہ اس ریمارک کے بعد سپریم کورٹ نے چھتیس گڑھ میں درج تیسری ایف آئی آر پر بھی جی پی سنگھ کو گرفتاری پر عبوری پروٹیکشن دیدیا ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : چھتیس گڑھ کے معطل اے ڈی جی گرجیندر پال سنگھ کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے ایک بار پھر بڑا تبصرہ کیا ہے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن نے ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہر معاملہ میں تحفظ نہیں لے سکتے ۔ آپ نے پیسہ وصول کرنا شروع کردیا کیونکہ آپ حکومت کے قریب ہیں ، یہی ہوتا ہے اگر آپ حکومت کے قریب ہیں اور یہ کام کرتے ہیں تو آپ کو ایک دن واپس ادائیگی کرنی ہوگی ، جب آپ حکومت کے ساتھ اچھے ہیں تو آپ وصولی کرسکتے ہیں ، لیکن اب آپ کو سود کے ساتھ ادائیگی کرنی ہوگی ۔

      عدالت نے کہا کہ یہ بہت زیادہ ہو رہا ہے ، ہم ایسے افسران کو تحفظ کیوں دیں؟ یہ ملک میں ایک نیا ٹرینڈ ہے ۔ انہیں جیل جانا ہوگا ۔ حالانکہ اس ریمارک کے بعد سپریم کورٹ نے چھتیس گڑھ میں درج تیسری ایف آئی آر پر بھی جی پی سنگھ کو گرفتاری پر عبوری پروٹیکشن دیدیا اور چھتیس گڑھ حکومت کو نوٹس جاری کرکے یکم اکتوبر کو پورے معاملہ کی سماعت کی تاریخ طے کی ہے ۔

      سنگھ کے وکیل وکاس سنگھ نے کہا کہ ایسے افسران کو تحفظ کی ضرورت ہے۔ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے حکمراں جماعتوں کے ساتھ پولیس افسران کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا تھا ۔ چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ملک میں یہ پریشان کرنے والا ٹرینڈ ہے ۔ عدالت نے کہا تھا کہ پولیس افسران برسر اقتدار سیاسی پارٹی کا فیور لیتے ہیں اور ان کے مخالفین کے خلاف کارروائی کرتے ہیں ۔ بعد میں جب مخالفین اقتدار میں آتے ہیں تو وہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرتے ہیں ۔ اس صورت حال کے لیے محکمہ پولیس کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہئے ۔ ان کو قانون کی حکمرانی پر قائم رہنا چاہئے۔ اسے روکنے کی ضرورت ہے ۔

      دوسری جانب سماعت کے دوران اس معاملہ میں ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ افسر کو جانچ میں تعاون کرنے کیلئے کہا گیا ہے ۔ دراصل آئی پی ایس افسر کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 124 اے کے تحت غداری اور آمدنی سے زائد اثاثہ کے معاملات درج کیے گئے ہیں ۔ اس معاملے میں افسر نے دو عرضیاں دائر کی ہیں ۔ ان میں سے ایک میں غداری کا مقدمہ رد کرنے کا مطالبہ ہے اور دوسری میں سی بی آئی سے اس معاملہ کی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔

      سماعت کے دوران افسر کی جانب سے ایڈووکیٹ فلی نریمن نے عدالت کو بتایا کہ افسر کو حکومت کی جانب سے پریشان کیا جا رہا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: