உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چدمبرم کا سوال ، کیا مودی حکومت رگھورام راجن کے لائق بھی ہے ؟

    نئی دہلی: کانگریس نے مودی حکومت پر روزگار، صنعت، زرعت اور اقتصادی ترقی سمیت تمام محاذوں پر ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ دو سال کے دوران عام لوگ ہی نہیں بلکہ بی جے پی کی اتحادی جماعتیں بھی اس سے خوش نہیں ہیں۔

    نئی دہلی: کانگریس نے مودی حکومت پر روزگار، صنعت، زرعت اور اقتصادی ترقی سمیت تمام محاذوں پر ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ دو سال کے دوران عام لوگ ہی نہیں بلکہ بی جے پی کی اتحادی جماعتیں بھی اس سے خوش نہیں ہیں۔

    نئی دہلی: کانگریس نے مودی حکومت پر روزگار، صنعت، زرعت اور اقتصادی ترقی سمیت تمام محاذوں پر ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ دو سال کے دوران عام لوگ ہی نہیں بلکہ بی جے پی کی اتحادی جماعتیں بھی اس سے خوش نہیں ہیں۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: کانگریس نے مودی حکومت پر روزگار، صنعت، زرعت اور اقتصادی ترقی سمیت تمام محاذوں پر ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے آج کہا کہ دو سال کے دوران عام لوگ ہی نہیں بلکہ بی جے پی کی اتحادی جماعتیں بھی اس سے خوش نہیں ہیں۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقد پریس کانفرنس میں مالی خسارے، کوئلہ اور کھاد کی پیداوار میں بہتری کے حکومت کی کوششوں کو مثبت بتایا لیکن کہا کہ دیگر تمام محاذوں پر وہ ناکام ثابت ہوئی ہے۔
      صنعتی، زرعی، روزگار، سالانہ ترقی کی شرح وغیرہ کی سطح پر دو سال کے دوران منفی نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اس محاذ پر وہ پوری طرح ناکام رہی ہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد،لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں باہر آ رہے ہیں لیکن ان کے لئے روزگار کہاں ہے۔ مودی سرکار دو سال کے دوران روزگار فراہم کرنے میں سب سے پھسڈی ثابت ہوئی ہے۔ زرعی شعبے میں حکومت کا ریکارڈ مایوس کن ہے اور اس میں 2013-14 کے دوران ترقی کی شرح منفی تھی اور اب اس میں معمولی بہتری آئی ہے۔
      ملک میں خشک سا لی کے حالات کااکثر سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ حکومت اس سے نمٹنے کے اقدامات کرنے میں ناکام رہی تو حالات زیادہ پیچیدہ ہو گئے۔ دیہی علاقوں میں خشک سالی کے سبب کسان بے حال ہیں اور اس کے سامنے زندگی کا بحران کھڑا ہو گیا ہے۔مسٹر چدمبرم نے کہا کہ کمپنیوں کی سالانہ فروخت کی شرح منفی درج کی گئی ہے، جس کی وجہ سے قرض کی مانگ دو دہائی کے نچلے سطح پر پہنچ گئی ہے۔ برآمد کے شعبے میں کمی آئی ہے اور صنعتی پیداوار کی ترقی کی شرح 2015-16 کے دوران محض 2.4 فیصد رہی ہے۔
      میک ان انڈیاکی موجودہ صورت حال کو انہوں نے بے سمت قرار دیا اور کہا کہ ایک مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ ملک میں سروس کے علاقے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے لیکن مینوفیکچرنگ کے شعبے میں اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 1137 منصوبے گزشتہ دو سال سے زیر التوا میں ہیں اور گرین فیلڈ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کاکوئی نتیجہ سامنےنہیں آ رہا ہے۔
      سابق وزیر خزانہ نے سوال کیا کہ زراعت اور صنعت کے شعبے میں ہی جب مایوسی کا ماحول ہے تو حکومت کے دو سال پورے ہونے پر جشن میں کس بات کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کامیابیوں سے عام آدمی تو دور اس کی اتحادی شیو سینا بھی خوش نہیں ہے تو شیو سینا حکومت کے دو سال کی مدت مکمل ہونے پر منعقد جشن میں شامل نہیں ہو رہی ہے۔
      کتابچہ کے دیباچہ میں مسٹر مودی پر شدید حملے کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ دو برس کے میعاد کار کے دوران ہی وزیراعظم عوام سے کئے گئے اپنے سارے وعدے بھول گئے ہیں اور ملک کے اداروں، ملک کی علامتوں اور بھائی چارے پر مسلسل حملے کررہے ہیں۔ اس میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ مودی حکومت دو سال مکمل کرچکی ہے لیکن اس نےایسا کوئی کام نہیں کیا جس کی تعریف کی جاسکے۔
      کانگریس نے حکومت کے دعوؤں پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے دو برس کے دور اقتدار میں ملک کی ترقی کی شرح کے 6ء7 فیصد کی سطح پر پہنچنے کا دعوی کررہی ہے، لیکن ماہرین اور عام لوگ اس بات سے حیران ہیں کہ جب اتنی ترقی ہوئی ہے تو وہ نظر کیوں نہیں آرہی ہے۔ کتابچہ میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے صنعتی کامیابی اور ایکسپورٹ سب کچھ منفی ہے تو یہ نظر کہاں سے آئے گا۔
      کتابچہ میں کہا گیا ہے کہ دو برس کی میعاد کار سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ مودی حکومت صرف بڑے بڑے دعوے اور پرکشش وعدے کرتی ہے۔ موجودہ حکومت نے دو برسوں میں کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا ہے بلکہ وہ صرف پرانی اسکیموں کا نام بدل کر انہیں نیا بناتی رہی ہے۔ کانگریس کے ذریعے تیار کردہ اشیاء اور سروس ٹیکس (جی ایس ٹی) جیسے بلوں کو حکومت پاس نہیں کرانا چاہتی ہے، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کہنے پر وہ اس سے ہاتھ پیچھے کھینچ رہی ہے اور اسے پاس نہ کرانے کا الزام کانگریس پر لگارہی ہے۔
      زراعت اور زرعی بحران کے نام سے جاری ایک جائزے میں وزیراعظم مودی اور کسان مخالف بتایا گیا ہے اور خشک سالی اور زیادہ بارش سے پریشان کسان کے مفاد میں کوئی قدم نہ اٹھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ بدعنوانی اور بلیک منی کے معاملے پر بھی حکومت پر سوال اٹھائے گئے ہیں اور خارجہ پالیسی کے معاملے پر سخت حملہ کیا گیا ہے۔
      ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر رگھورام راجن پر بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی کے الزامات سے متعلق سوالات کو تو انہوں نے پہلے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ جب وزیر اعظم مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی کچھ کہیں گے تو پھر کانگریس اپنا ردعمل ظاہر کرے گی ۔ تاہم جب چدمبرم سے یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا رگھورام راجن کو دوسری مدت دینی دی جانی چاہئے تو انہوں نے کہا کہ پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ مودی حکومت راجن کے لائق ہے بھی یا نہیں ۔ انہوںنے کہا کہ یو پی اے حکومت میں دنیا کے معروف و ممتاز ماہر اقتصادیات کو آر بی آئی کا گورنر بنایا ۔ اس وقت ہم نے ان پر پورا بھروسہ کیا اور آج بھی ہمیں ان پر پورا بھروسہ ہے۔
      First published: