اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ’جنسی استحصال کے خلاف شعور بیداری ضروری‘ حیدرآباد میں چائلڈ سیفٹی آگاہی واک

    وہ زیادہ تر مجرم مشہور لوگ ہوتے ہیں۔

    وہ زیادہ تر مجرم مشہور لوگ ہوتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad | Jammu | Delhi | Lucknow | Karnal
    • Share this:
      جنسی استحصال ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے عوامی تشویش کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ تاہم ’بچوں کے جنسی استحصال‘ کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2021 میں بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کی روک تھام (POCSO) ایکٹ کے تحت کل 53,874 واقعات درج ہوئے۔

      اس میں مختلف شکلوں کا جنسی حملہ شامل ہے جہاں بچہ جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی دباؤ سے گزرتا ہے۔ جب سے کورونا وائرس کی بیماری شروع ہوئی ہے، تب سے ہی بچوں کی سائبر سیفٹی دنیا بھر میں ایک بڑی تشویش بن گئی ہے۔

      ایل ایس ایف کے بانی کو ماڈی ناگاراجو نے کہا کہ ہمیں احتساب کے ساتھ محبت کے ماڈل کی ضرورت ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں کے لوگوں کو اس مقصد کے لیے ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھ کر خوشی ہوئی! بدسلوکی کبھی بھی موجودہ لمحے تک محدود نہیں رہتی، یہ بچے کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے اور طویل المیعاد تکلیف دہ اثرات چھوڑتی ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں دونوں اس زیادتی کا شکار ہوتے ہیں۔

      اس کا مقصد مقصد بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔
      اس کا مقصد مقصد بچوں کے جنسی استحصال کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔


      بچوں کے خلاف سائبر کرائمز میں اضافہ ہوا ہے جس میں چائلڈ پورنوگرافی، سائبر اسٹالنگ، سائبر بلنگ، بدنامی، جنسی طور پر ہراساں کرنا اور رازداری کی خلاف ورزی وغیرہ شامل ہیں۔ حیدرآباد کے شہریوں میں بیداری پیدا کرنے کے لیے 27 نومبر کو ایک واک کا انعقاد کیا گیا تاکہ وہ محفوظ بچپن کو یقینی بنانے میں اپنی یکجہتی کا اظہار کریں۔

      ’خاموش رہنا ٹھیک نہیں ہے‘۔
      ’خاموش رہنا ٹھیک نہیں ہے‘۔


      اس کا آغاز لرننگ اسپیس فاؤنڈیشن (Learning Space Foundation) نے اپنے چائلڈ سیفٹی ویک 2022 کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر کیا، وہیں دو دیگر این جی اوز ڈگنٹی ڈرائیو فاؤنڈیشن (Dignity Drive Foundation) اور ینگستان فاؤنڈیشن (Youngistaan Foundation) اس واک کے انعقاد میں تعاون کیا ہے۔ ایم اے اے ای این ٹی اسپتال کے انو نیلا اور انولینا واک کے سلور سپانسرز رہے ہیں۔

      ’’بدسلوکی کبھی بھی موجودہ لمحے تک محدود نہیں رہتی، یہ بچے کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے‘۔
      ’’بدسلوکی کبھی بھی موجودہ لمحے تک محدود نہیں رہتی، یہ بچے کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے‘۔


      ایل ایس ایف کے بانی کو ماڈی ناگاراجو (Kaumudi Nagaraju) کا کہنا ہے کہ اجتماعی کارروائی سے لوگوں میں زیادہ اثر اور بیداری پیدا ہوگی۔ ہم ایک بہتر معاشرے کی طرف قدم اٹھانے کے لیے ڈی ڈی ایف اور ینگستان فاؤنڈیشن کے ساتھ تعاون کرنے پر خوش ہیں۔

      ’ہمیں احتساب کے ساتھ محبت کے ماڈل کی ضرورت ہے‘۔
      ’ہمیں احتساب کے ساتھ محبت کے ماڈل کی ضرورت ہے‘۔


      یہ بھی پڑھیں: 

      انھوں نے کہا کہ کارپوریٹس، اسکولوں، کالجوں کو شامل کرنے کا ہمارا مقںصد یہ ہے کہ ہم سب مل کر معاشرہ میں نئی اور مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں۔

      ’لڑکے اور لڑکیاں دونوں اس زیادتی کا شکار ہوتے ہیں‘۔
      ’لڑکے اور لڑکیاں دونوں اس زیادتی کا شکار ہوتے ہیں‘۔



      ماڈی ناگاراجو کا کہنا ہے کہ اجتماعی کارروائی کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کیونکہ اجتماعی طور پر ہم خیالات پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔ وسیع طور تبدیلی لا سکتے ہیں اور ایک بڑے سامعین تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہم اپنے تمام مہمانوں، سپانسرز، شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا!” (پریس نوٹ)
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: