உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چینی ویکسین لگوانے کے بعد بھی ہندوستانیوں کو ویزا نہیں دے رہا چین : وزارت خارجہ

    چینی ویکسین لگوانے کے بعد بھی ہندوستانیوں کو ویزا نہیں دے رہا چین : وزارت خارجہ

    MEA Press Briefing: وزار ت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے کہا کہ اس وقت چینی شہریوں سمیت چین سے لوگ ہندوستان آسکتے ہیں ، جبکہ اس وقت سیدھی کنیکٹویٹی نہیں ہے جبکہ ہندوستانی شہریوں کے لئے گزشتہ برس نومبر سے چین جانا ممکن نہیں ہے ، کیونکہ چینی حکومت تمام موجود ویزا معطل کرچکی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : ہندوستان نے چین سے گزارش کی ہے کہ وہ چینی اداروں میں روزگار اور تعلیم کے لئے جانے والے ہندوستانی شہریوں کو آنے جانے کی اجازت دے اور جلد از جلد ویزا فراہم کرے ۔ وزار ت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے یہاں ایک ورچول پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس وقت چینی شہریوں سمیت چین سے لوگ ہندوستان آسکتے ہیں ، جبکہ اس وقت سیدھی کنیکٹویٹی نہیں ہے جبکہ ہندوستانی شہریوں کے لئے گزشتہ برس نومبر سے چین جانا ممکن نہیں ہے ، کیونکہ چینی حکومت تمام موجود ویزا معطل کرچکی ہے۔

      ترجمان نے کہاکہ اس برس مارچ میں چینی سفارتخانہ نے ایک نوٹفکیشن جاری کرکے کہا تھا کہ انہی لوگوں کو ویزا دیا جائے گا ، جو چینی ٹیکہ لگوائیں گے۔ سمجھا جاتا ہے کہ کئی ہندوستانی شہریوں نے اسی طرح سے چینی ٹیکہ لگواکر چین کے ویزا کے لئے درخواست دی ہے لیکن انہیں اب تک ویزا جاری نہیں کیا گیا ہے۔ چونکہ ان ہندوستانی شہریوں نے چین کی شرط پر عمل کیا ہے، ہمیں امید ہے کہ چینی سفارتخانہ انہیں جلد ہی ویزا دے گا۔

      مسٹر باگچی نے کہاکہ حکومت ہندوستانی شہریوں خاص طورپر چین میں زیرتعلیم طلبہ کو چین کے سفر کی اجازت جلد از جلد دیئے جانے کے لئے چینی حکومت کے رابطہ میں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کووڈ پروٹوکول پر سختی سے عمل اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ پر یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ دو طرفہ آمد و رفت شروع ہونی چاہئے کیونکہ چینی شہریوں کو ہندوستان آنے کی اجازت ہے۔

      مشرقی لداخ میں اصل کنٹرول لائن سے افواج کو پیچھے ہٹانے سے متعلق سوالات کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بارڈر کوآرڈی نیشن سے متعلق سٹم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 21ویں میٹنگ 12مارچ کو اور کور کمانڈر سطح کی گیارہویں میٹنگ نو اپریل کو ہوئی تھی۔ ان میٹنگوں میں دونوں فریق موجودہ معاہدوں اور پروٹوکول کے مطابق تمام زیرالتواامور کے فوری حل کی ضرورت پر رضامند ہوئے تھے۔

      انہوں نے مزید کہا کہ ہم بار بار زور دے رہے ہیں کہ دیگر علاقوں سے مکمل طورپر افواج کو ہٹانے کا کام پورا ہونے سے سرحدی علاقوں میں مکمل امن اور استحکام بحال ہوگا اور دو طرفہ تعلقات میں پیش رفت ممکن ہوگی۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: