உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی پولیس سوالات کے گھیرے میں، بسوں اورکاروں میں کس نے لگائی آگ؟ منیش سسودیا نے اٹھایا بڑا سوال

    دہلی کے نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا نے دہلی پولیس پر سوال اٹھایا ہے۔

    دہلی کے نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا نے دہلی پولیس پر سوال اٹھایا ہے۔

    منیش سسودیا نے اپنے ٹوئٹرہینڈل پرکئی تصویریں شیئرکی ہیں اوراس میں پولیس کے ہاتھ میں ایسے آلات دکھائی دے رہے ہیں، جس سے ان پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔ جامعہ پولیس نے بھی کیمپس میں پولیس کے داخل ہونے پر سوال اٹھایا ہے۔

    • Share this:
      شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دارالحکومت دہلی کے جامعہ نگرعلاقے میں ہوئے احتجاجی مظاہرے کے دوران بسوں اورگاڑیوں میں آگ لگا دی گئی تھی، جس کا الزام مظاہرین پرتھا۔ تاہم اس الزام پردہلی کےنائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا نے بڑا سوال اٹھایا ہے۔ منیش سسودیا نےاپنےٹوئٹرہینڈل پرکئی تصویریں ٹوئٹ کی ہیں اوراس میں پولیس کے ہاتھ میں ایسے آلات دکھائی دے رہے ہیں، جس سےان پرسوال اٹھنا لازمی ہے۔

      نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا نےلکھا "اس بات کی فوراً منصفانہ جانچ ہونی چاہئےکہ بسوں میں آگ لگنے سے پہلے یہ وردی والےلوگ بسوں میں پیلےاورسفید رنگ والی کین سےکیا ڈال رہے ہیں۔۔؟ اوریہ کس کےاشارے پرکیا گیا؟ تصویرمیں صاف نظرآرہا ہےکہ بی جے پی نےگھٹیا سیاست کرتے ہوئے پولیس سے یہ آگ لگوائی ہے"۔



      منیش سسودیا نےٹوئٹ کیا 'یہ تصویریں دیکھئے... دیکھئےکون لوگ بسوں اورکاروں میں آگ... یہ فوٹو سب سےبڑا ثبوت ہے بی جے پی کی گھٹیا سیاست کا... اس کا کچھ جواب دیں گے بی جے پی لیڈر..."۔



      دوسری جانب جامعہ انتظامیہ نے بھی دہلی پولیس پربڑا الزام عائد کیا ہے۔ جامعہ کے چیف پراکٹروسیم احمد خان نے اے این آئی سےکہا ہے کہ جامعہ میں زبردستی پولیس گھس گئی۔ کوئی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ہمارے طلباء کومارا پیٹا جارہا ہے۔ انہیں کیمپس چھوڑنے پر مجبورکیا جارہا ہے۔ اس طرح سے جامعہ انتظامیہ نے بھی دہلی پولیس کوسوالوں کےگھیرے میں لاکرکھڑا کردیا گیا ہےکیونکہ کیمپس کےاندربلا اجازت پولیس کا جانا اورطلباء کی پٹائی کرنا بربریت ہے۔



      واضح رہےکہ آج جامعہ نگرعلاقے میں احتجاج کے بعد پولیس اور طلباء ومظاہرین کے درمیان جھڑپ  بھی ہوئی تھی۔ اس دوران تین بسوں اور کاروں میں آگ لگا دی گئی تھی، جس کا الزام مظاہرین کے سرتھا، لیکن اب جو تصویریں سوشل میڈیا پروائرل ہورہی ہیں، اس نے پولیس پرہی سوال اٹھا دیا ہے۔ اس دوران پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کیمپس میں گھس کر بھی طلبا کومارا، جس پر جامعہ انتظامیہ نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ لائبریری کے باہر بھی آنسو گیس کے گولے داغے گئے تھے۔ یہاں تک کہ مسجد کے امام نے لاؤڈاسپیکر سے دہلی پولیس سے ایسا نہ کرنےکی بھی اپیل کی تھی۔ دوسری طرف جامعہ نگر علاقہ پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ ہرطرف پولیس اہلکاردکھائی دے رہے ہیں۔
      First published: