ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شہریت ترمیمی بل 2019 راجیہ سبھا میں پیش ، وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا : مسلمانوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں

راجیہ سبھا کی کارروائی کی فہرست کے مطابق دو پہر 12 بجے شہریت ترمیمی بل پر بحث ہونے والی ہے ۔ اس دوران ایوان میں زوردار ہنگامہ آرائی کا پورا امکان ہے ۔

  • Share this:
شہریت ترمیمی بل 2019 راجیہ سبھا میں پیش ، وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا : مسلمانوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں
وزیر داخلہ امت شاہ ۔ تصویر : نیوز 18 ڈاٹ کام ۔

شہریت ترمیمی بل 2019 لوک سبھا میں منظور ہوچکا ہے ۔ بدھ کو اس بل کو راجیہ سبھا میں پیش کردیا گیا ہے ۔ راجیہ سبھا میں بل کو پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ اس بل سے کروڑوں لوگوں کو کافی امیدیں ہیں ۔ شاہ نے کہا یہ یہ بل پناہ گزینوں کو حق اور مساوات فراہم کرنے والا بل ہے ۔ ہم مساوات کا حق دینے کیلئے یہ بل لے کر آئے ہیں ۔ ساتھ ہی ساتھ امت شاہ نے ایک مرتبہ پھر دعوی کیا کہ یہ بل مسلم طبقہ کے خلاف نہیں ہے ، اس لئے ملک کے مسلمانوں کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔


شہریت بل کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ یہ بل ان لوگوں کو شہریت دے گا جو مذہب کی بنیاد پر استحصال کے شکار ہوئے ہیں ۔ ہم پڑوسی ممالک سے آئے استحصال کے شکار پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کرائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس بل میں شمال مشرقی ریاستوں کا بھی خیال رکھا ہے ۔ ہماری حکومت شمال مشرقی ریاستوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے پابند عہد ہے ۔




شہریت ترمیمی بل کوئز میں حصہ لیں ۔


لوک سبھا میں شہریت ترمیمی بل ( سی اے بی ) پیر کو منظور ہوگیا ۔ اس کوئز میں حصہ لے کر اس متنازع بل کے بارے میں اپنی معلومات کا اندازہ لگائیں ۔




شہریت ترمیمی بل کے تحت تبت کے پناہ گزینوں کوملے گی شہریت ؟






 کیا، احمدیہ پناہ گزینوں جوپاکستان میں مذہبی ظلم و ستم کا شکارہوکربھاگ کرآئے انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت ملے گی؟







کیا، بنگلہ دیش ہندومہاجرجو 2015 میں غیرقانونی طورپرہندوستان میں داخل ہوا ہے اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟





بنگلہ دیش کے ایک بدھسٹ مہاجرجن کا نام آسام کے نیشنل رجسٹرآف سیٹیزنس سے نکال دیاگیاہے اور اس کے خلاف فارین ٹرابیونل میں کیس زیرالتواء ہے تو کیا اسے شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟




میگھالیہ آئین کے چھٹویں شیڈول کے تحت آتاہے اور یہ شہریت ترمیمی بل کے حدود سے باہر ہے تو کیا شیلانگ کے پولیس بازار میں رہنے والے ہندوبنگلہ دیش مہاجر،شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کےلیے درخواست داخل کرسکتاہے؟





کیا پاکستان سے غیرقانونی طورپر آکرناگا لینڈ کے دیما پور میں رہنے والا مہاجر شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کے لیے درخواست داخل نہیں کرسکتاہے کیوں کہ ناگا لینڈ میں انرلائن پرمٹ کا نفاذ ہے جو شہریت ترمیمی بل کے حدود سے باہر ہے؟







کیا تریپورہ میں قیام پذیر بنگالی ہندو مہاجرین کو شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت مل سکتی ہے ؟





ہندوستان منتقل ہونے والے ہندو، سکھ، بدھیسٹ، جین، پارسی اور عیسائی مہاجرین جوپاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش میں مذہبی ظلم وستم شکار ہوئے ہیں، انہیں شہریت ترمیمی بل کے تحت خود بخود شہریت مل جائیگی ؟




کوئی بھی ہندو مہاجر شہریت ترمیمی بل کے تحت شہریت کا دعویٰ کرسکتاہے؟






بنگلہ دیش کے چکما، ہاجنگ کے پناہ گزین جو اروناچل پریش میں قیام پذیز ہیں اور انہیں اب تک شہریت نہیں ملی ہے تو کیا انہیں شہریت ترمیم بل کے تحت شہریت مل جائیگی؟






کیا سری لنگا سے آنے والے ہندو تامل مہاجرین شہریت ترمیم بل کے تحت ہندوستانی شہریت حاصل کرسکتے ہیں؟





آسامی میں بات کرنے والے ہندو، جو جوہرہاٹ سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں مناسب دستاویزات کی عدم موجودگی کے سبب نیشنل رجسٹرآف سیٹزنس میں شامل نہیں کیاگیاہے؟ کیا وہ شہریت ترمیمی بل کے شہریت کے لیے درخواست داخل کرسکتے ہیں؟ 








 

 


اپوزیشن پارٹیاں راجیہ سبھا میں اس بل کی مخالفت کریں گی ۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ راجیہ سبھا میں 13 ایسی پارٹیاں ہیں ، جو اس بل کی حمایت میں نہیں ہیں ، میں نے ان سبھی پارٹیوں کے لیڈروں سے بات کی ہے ۔ یہ سبھی پارٹیاں شہریت ترمیمی بل کے خلاف ووٹ کریں گی ۔ غلام نبی آزاد نے مزید کہا کہ یہ حکومت معیشت ، بے روزگاری اور مہنگائی کے معاملہ پر بات نہیں کرتی ۔ بی جے پی کی دلچسپی صرف مذہب کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے میں ہے ۔


ادھر بی جے پی کو امید ہے کہ یہ بل راجیہ سبھا میں آسانی سے منظور ہوجائے گا ۔ بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے سے وابستہ ذرائع کے مطابق راجیہ سبھا میں بل کی حمایت میں 124 سے 130 ووٹ پڑسکتے ہیں جبکہ اس بل کو منظور ہونے کیلئے 121 ووٹوں کی ہی ضرورت ہوگی ۔
دراصل فی الحال راجیہ سبھا میں اراکین کی کل تعداد 240 ہے ۔ یعنی بل پاس کرانے کیلئے 121 ووٹوں کی ضرورت ہوگی ۔ این ڈی اے کو 116 اراکین کی حمایت حاصل ہے ۔ بی جے ڈی کے سات اراکین بل کی حمایت میں ووٹ کریں گے ۔ وائی ایس آر کانگریس کے دو اراکین بھی بل کی حمایت کرسکتے ہیں ۔ یعنی این ڈی اے کو 125 اراکین کی حمایت ملتی نظر آرہی ہے ۔ تاہم این ڈی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کو 124 سے 130 ووٹ مل سکتے ہیں ۔
First published: Dec 11, 2019 11:13 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading