ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شہریت بل: 2015 سے پہلے سے ہندوستان میں رہنے والوں کو ملے گی شہریت

بل کے مقاصد اور وجوہات میں بتایا گیا ہے کہ بل کے ذریعہ شہریت ایکٹ کی فہرست تین میں ترمیم کرکے ان تینوں ملکوں کے مندرجہ بالا چھ طبقوں کے لوگوں کے لئے مستقل شہریت کی درخواست کی شرائط کو آسان بنایا گیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 09, 2019 06:41 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
شہریت بل: 2015 سے پہلے سے ہندوستان میں رہنے والوں کو ملے گی شہریت
وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو لوک سبھا میں شہریت بل پیش کیا۔

نئی دہلی۔ حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پیرکو پیش شہریت (ترمیمی) بل 2019میں سال 2015 سے پہلے سےغیر قانونی طورپر ملک میں رہنے والے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کے ہندو،بودھ، جین ،سکھ ،پارسی اور عیسائی طبقوں کے لوگوں کو ہندوستانی شہریت دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیا۔ اس کے مقاصد اور جوہات میں بتایا گیا ہے کہ بل کے ذریعہ شہریت ایکٹ کی فہرست تین میں ترمیم کرکے ان تینوں ملکوں کے مندرجہ بالا چھ طبقوں کے لوگوں کے لئے مستقل شہریت کی درخواست کی شرائط کو آسان بنایا گیا ہے۔ پہلے کم از کم 11سال ملک میں رہنے کے بعد انہیں شہریت کے لئے درخواست کا حق تھا۔ اب اس طے مدت کو گھٹا کرپانچ سال کیا جا رہا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ 31 دسمبر 2014 تک بغیر قانونی دستاویزوں کے ان تین ملکوں سے ہندوستان میں داخل ہونے والے یا اس مدت سے پہلے قانونی طورپر ملک میں داخل ہونے اور دستاویزوں کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی غیر قانونی طورپر یہیں رہنے والے چھ طبقوں کے لوگ شہریت کی درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی انتظام کیا گیا ہے کہ ان کی نقل مکانی یا ملک میں غیر قانونی طور پر قیام کےسلسلے میں ان پر پہلے سے چل رہی کوئی بھی قانونی کارروائی مستقل شہریت کے لئے ان کی اہلیت کو متاثر نہیں کرے گی اور شہریت کی درخواست پر غور کرنے والے افسر ان معاملوں پر توجہ دئے بغیر درخواست پر غور کریں گے۔

اس بل کے ذریعہ ’اوورسیز سٹیزین آف انڈیا‘(او سی آئی) کارڈ ہولڈروں کے ذریعہ قانون کی شرطوں یا کسی دیگر ہندوستانی ضابطے کی خلاف ورزی کرنے کی صورت میں ان کا کارڈ منسوخ کرنے کا اختیار مرکزی حکومت کو مل جائےگا۔ ساتھ ہی کارڈ منسوخ کرنےسے پہلے کارڈ ہولڈر کو اس کی بات رکھنے کا موقع دینے کی بھی تجویز بل میں رکھی گئی ہے۔ بل کے مقاصد اور وجوہات کے مطابق، پاکستان،بنگلہ دیش اور افغانستان میں قومی مذہب ہے جسے وہاں کے آئین کے ذریعہ قانونی حیثیت حاصل ہے۔ ان ملکوں میں ہندو، بودھ ،جین ،سکھ، پارسی اور عیسائی مذہب کے لوگوں پر ظلم کیا جاتا ہے۔ ان میں سے کئی لوگوں نے ہندوستان آکر پناہ لی ہے اور لمبے وقت سے غیر قانونی طورپر یہیں رہ رہے ہیں اورانہیں غیر قانونی غیر مقیم مانا جاتا ہے۔ اب انہیں ہندوستانی شہریت کا اہل بنانے کے لئے یہ بل لایا گیا ہے۔

First published: Dec 09, 2019 06:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading