ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

شمال مشرقی دہلی فساد کو لے کر ہو رہی گرفتاریوں پر سول سوسائٹی نے اٹھائے سوال

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ طلباء اور سماجی کارکنوں کی بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتاری کی جارہی ہے اور ان پر یو اے پی اے لگایا جا رہا ہے۔ ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں

  • Share this:
شمال مشرقی دہلی فساد کو لے کر ہو رہی گرفتاریوں پر سول سوسائٹی نے اٹھائے سوال
فائل فوٹو

نئی دہلی۔ دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں فروری میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد  معاملے کی دہلی پولیس جانچ کر رہی ہے اور  کرائم پانچ کے ذریعے کی جارہی تحقیقات کے تحت کئی لوگوں کی گرفتاریاں بھی سامنے آئی ہیںلیکن ان تمام گرفتاریوں پر پر شمال مشرقی دہلی فساد متاثرین کی راحت رسانی کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں نے سوال اٹھائے ہیں۔


یونائیٹڈ اگینسٹ ہیٹ نے اس سے پہلے بھی شمال مشرقی دہلی فساد کے سلسلے میں ہو رہیں گرفتاریوں کو لے کر مشترکہ بیان جاری کیا تھا۔ تاہم اس بار 25 سماجی کارکنان اور دانشوران کی جانب سے مشترکہ بیان سامنے آیا ہے۔ مشترکہ بیان میں فسادکی تحقیقات کے تحت کی جارہی گرفتاریوں پر سوال اٹھایا گیا ہے ۔خاص بات یہ ہے کہ اس مشترکہ بیان میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم اور لیڈر عمر خالد، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریسرچ اسکالر میران حیدر اور اسی طرح جامعہ ملیہ اسلامیہ کی خاتون ایکٹویسٹ لیڈر صفورہ زرگر کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔


جلی ہوئی یہ دکان لوٹ مار کا درد بیاں کر رہی ہے
جلی ہوئی یہ دکان لوٹ مار کا درد بیان کر رہی ہے: فائل فوٹو


مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ طلباء اور سماجی کارکنوں کی بے بنیاد الزامات کے تحت گرفتاری کی جارہی ہے اور ان پر یو اے پی اے لگایا جا رہا ہے۔ ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں کیونکہ دہلی پولیس اِس لاک ڈاؤن کو موقع کی طرح استعمال کر رہی ہے تاکہ جمہوری آوازوں کو دبایا جاسکے۔ کورونا وائرس کے خلاف ملک کو متحد ہونے کی ضرورت ہے اور لاک ڈاؤن کا اس طرح سے استعمال کیا جانا غلط ہے۔ مشترکہ بیان میں میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کے تمام شہریوں، تمام سیاسی پارٹیوں اور عدالتی سسٹم کو اس ناانصافی کے خلاف کھڑا ہوجانا چاہیے اور بی جے پی حکومت کو تمام غلط اور بے بنیاد الزامات واپس لینے چاہئیں ۔ مشترکہ بیان جاری کرنے والوں میں ہرش مندر ، کویتا شریواستو ، روی نایر، پروفیسر اپوروانند ، پروفیسر رام پنیانی،ایس آر دارا پوری ، دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان ، ڈاکٹر قاسم رسول الیاس، ڈاکٹر سیدہ حمید، جان دیال ، جے این یو طلبہ یونین کی صدر آئیسا گھوش کے ساتھ ساتھ مشہور سماجی کارکن کویتا کرشنا بھی شامل ہیں۔
First published: Apr 23, 2020 02:17 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading