உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پلوامہ میں جنگجوؤں اور فوجیوں کے مابین فائرنگ کا تبادلہ، ایک عام شہری اور ایک فوجی ہلاک

    علامتی تصویر

    علامتی تصویر

    سری نگر جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں گذشتہ رات جنگجوؤں اور فوجی اہلکاروں کے مابین گولہ باری کا مختصر تبادلہ ہوا جس میں ایک شہری اور ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوئے

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      سری نگر جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں گذشتہ رات جنگجوؤں اور فوجی اہلکاروں کے مابین گولہ باری کا مختصر تبادلہ ہوا جس میں ایک شہری اور ایک فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ مہلوک شہری کی شناخت بلال احمد گنائی ولد محمد رمضان گنائی ساکنہ ناروہ پلوامہ کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ وہ پیشے سے ڈرائیور تھا۔

      یہ وادی میں مرکزی حکومت کی طرف سے ’رمضان سیر فائز‘ کے اعلان کے بعد مسلح تشدد میں کسی شہری اور فوجی کی ہلاکت کا پہلا واقعہ ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق شہری کی ہلاکت کے پیش نظر ضلع پلوامہ میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو احتیاطی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔

      سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کے ایک گروپ نے گذشتہ رات قریب 10 بجکر 15 منٹ پر پلوامہ کے کاکہ پورہ میں واقع فوج کی 50 راشٹریہ رائفلز (آر آر) کے کیمپ پر حملہ کردیا۔ انہوں نے بتایا ’جنگجوؤں نے کیمپ کو نشانہ بناکر گرینیڈ پھینکا اور اندھا دھند فائرنگ کی۔ فوجیوں نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین گولہ باری کا مختصر تبادلہ ہوا‘۔

      سرکاری ذرائع نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک شہری اور ایک فوجی اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے بتایا ’زخمیوں کو اسپتال لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے‘۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمی شہری اور فوجی کو بالترتیب پبلک ہیلتھ سنٹر کاکہ پورہ اور فوجی اسپتال سری نگر منتقل کیا گیا لیکن وہ زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔


      انہوں نے بتایا کہ پیشے سے ڈرائیور بلال احمد سر میں گولی لگنے کی وجہ سے شدید زخمی ہوا تھا۔ دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیا نے یو این آئی کو بتایا ’جنگجوؤں کی طرف سے آر آر کیمپ کاکہ پورہ کو نشانہ بنایا گیا۔ حملے میں ہمارا ایک جوان جاں بحق ہوا‘۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 16 مئی کو وادی کشمیر میں قیام امن کی سمت میں ایک غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے ماہ رمضان کے دوران سیکورٹی فورسز کے آپریشنز کو معطل رکھنے کا اعلان کیا۔ تاہم جنگجوؤں کی طرف سے حملے کی صورت میں سیکورٹی فورسز کو جوابی کاروائی کا حق دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے اس اعلان کے ساتھ ہی وادی میں جنگجوؤں کے خلاف جاری آپریشن آل آوٹ اور کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز پر بریک لگ گئی ہے۔

      ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے 9 مئی کو سری نگر کے ایس کے آئی سی سی میں بلائی گئی کُل جماعتی اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد کہا تھا کہ ماہ رمضان اور سالانہ امرناتھ یاترا کے پیش نظر مرکزی سرکار سے وادی کشمیر میں یکطرفہ فائر بندی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ جنگجو مخالف آپریشنوں سے عام لوگوں کو تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اُس وقت ریاست میں بی جے پی لیڈروں نے اس تجویز کی نکتہ چینی کی تھی ۔
      First published: