ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

نربھیا کیس : سی جے آئی بوبڈے نے خود کو معاملہ کی سماعت سے کیا الگ ، اب بنے گی نئی بینچ

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے نے دارالحکومت نئی دہلی میں نربھیا اجتماعی جنسی زیادتی کے مقدمے کے مجرم اکشے کی نظر ثانی کی عرضی کی شنوائی سے خود کو الگ کر لیا ہے ۔

  • Share this:
نربھیا کیس : سی جے آئی بوبڈے نے خود کو معاملہ کی سماعت سے کیا الگ ، اب بنے گی نئی بینچ
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے ۔ فائل فوٹو ۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے نے دارالحکومت نئی دہلی میں نربھیا اجتماعی جنسی زیادتی کے مقدمے کے مجرم اکشے کی نظر ثانی کی عرضی کی شنوائی سے خود کو الگ کر لیا ہے ۔ جسٹس بوبڈے ، جسٹس آر بھانومتی اور جسٹس اشوک بھوشن کی خصوصی بینچ نے جیسے ہی سماعت شروع کی ، چیف جسٹس بوبڈے نے سامنے رکھی فائل اٹھائی اور گذشتہ حکم پڑھنا شروع کیا کہ ان کی نظر ایک جگہ رک گئی اور انہوں اپنی بائیں جانب بیٹھے جسٹس بھوشن سے مشورہ کیا۔

مشورہ کے بعد انہوں نے کہا کہ اس مقدمے میں ان کے بھتیجے ارجن بوبڈے نے متاثرہ کے اہل خانہ کی جانب سے پیروی کی تھی ۔ حالانکہ سالسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے ، لیکن انہوں نے خود کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا۔  چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملہ کی سماعت کیلئے الگ سے بینچ تشکیل دیں گے اور کل صبح 10:30 بجے نئی بینچ سماعت کرے گی ۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال نو جولائی کو عدالت عظمی نے اس نربھیا سانحہ کے تین دیگر مجرموں 30 سالہ مکیش ، 23 سالہ پون گپتا اور 24 سالہ ونے شرما کی نظر ثانی کی عرضیاں یہ کہتے ہوئے خارج کردی تھیں کہ 2017 کے فیصلہ پر نظر ثانی کیلئے کوئی بنیاد نہیں پیش کی گئی ہے ۔

خیال رہے کہ سال 2012 میں 16 دسمبر کی شب میں جنوبی دہلی میں ایک چلتی بس میں 23 سال کی پیرا میڈیکل طالبہ کی چھ لوگوں نے اجتماعی آبروریزی کی اور درندگی کی ساری حدیں پار کیں اور پھر چلتی بس سے اس کو باہر پھینک دیا تھا ۔ متاثرہ طالبہ کی 29 دسمبر 2012 کو سنگاپور کے ایک اسپتال میں موت ہوگئی تھی ۔

اس معاملہ کے ایک ملزم رام سنگھ نے تہاڑ جیل میں مبینہ طور پر خودکشی کرلی تھی جبکہ ایک دیگر ملزم نابالغ تھا اور اس کو جووینائل جسٹس بورڈ نے مجرم گردانا تھا ۔ تین سال تک اصلاح گھر رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا تھا ۔ عدالت عظمی نے 2017 میں اس معاملہ کے دیگر چار گنہگاروں کو نچلی عدالت اور دہلی ہائی کورٹ کے ذریعہ سنائی گئی موت کی سزا کو برقرار رکھا تھا ۔


نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ ۔
First published: Dec 17, 2019 04:07 PM IST