உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جنسی ہراسانی معاملے میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی کوکلین چٹ

    جنسی ہراسانی معاملے میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو کلین چٹ

    جنسی ہراسانی معاملے میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو کلین چٹ

    ان ہاوس پوچھ گچھ کے دوران جسٹس اے ایس بوبڑے کی قیادت میں رنجن گوگوئی نے اپنے اوپرعائد تمام الزامات کو مسترد کردیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کےخلاف جنسی ہراسانی کےالزام کی جانچ کررہی ان ہاؤس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں انھیں کلین چٹ دے دی ہے ۔ سپریم کورٹ کے سکریٹری جنرل نے پیرکے روزجاری ایک پریس ریلیزمیں کہا کہ جسٹس ایس اے بوبڑے کی صدارت والی سہ رکنی ان ہاؤس کمیٹی نےسینئرٹی کےاعتبارسے اپنے بعد دوسرے سینئرجج کوکل (پانچ مئی )کورپورٹ پیش کردی۔

      کمیٹی میں دوخاتون جج، جسٹس اندرا بنرجی اورجسٹس اندوملہوترا شامل ہیں۔ پریس ریلیز کےمطابق کمیٹی کوسپریم کورٹ کی سابق ملازمہ اورشکایت کنندہ کےالزامات میں کوئی صداقت نظرنہیں آئی۔ ریلیزکے مطابق اندرا جے سنگھ بنام سپریم کورٹ معاملہ میں 2003 کےفیصلہ کےمطابق ان ہاؤس جانچ کے عمل کےتحت تشکیل دی گئی۔

      الزام لگانے والی سپریم کورٹ کی سابقہ خاتون ملازم نےتین ججوں کے ان ہاوس پینل کے ذریعہ کی جارہی جانچ میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہاں سے اسے انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ خاتون نے یہ انکارجسٹس ایس اے بوبڑے کی قیادت میں پیرکوپینل کی تیسری ان چیمبرمیٹنگ کے بعد کیا۔ خاتون نے کہا کہ اب تک ہوئی سماعت میں اسے ڈرلگا کیونکہ وہاں اسے اکیلے حاضرہونا تھا۔ اس کے وکیل کو بھی کارروائی کا حصہ نہیں بننے دیا گیا۔ شکایت کنندہ کی واپسی کے بعد عدالت کی کمیٹی نے اپنی جانچ ختم کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔ پیرکو سپریم کورٹ کے ان ہاوس پینل نے اپنی رپورٹ سونپ دی ہے۔



      انگریزی اخبارٹائمس آف انڈیا میں شائع خبرکے مطابق خود چیف جسٹس کے خلاف جانچ چلنے کے سبب پینل رپورٹ سپریم اتھارٹی ہونے کے باوجود چیف جسٹس کو نہیں سونپی جاسکتی ہے۔ ایسے میں جسٹس بوبڑے، جسٹس اندوملہوترا اور جسٹس اندرا بنرجی کی جانچ کمیٹی اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کے سبھی ججوں کو سونپے گی۔ فی الحال سپریم کورٹ میں 27 سٹنگ جج ہیں جبکہ اس کی فل اسٹرینتھ 31 ججوں کی ہے۔ اس جانچ رپورٹ کو عوامی نہیں کیا جائے گا۔  واضح رہے کہ عدالت عظمی کی ایک سابق ملازمہ نے چیف جسٹس پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد ایک کمیٹی کی تشکیل کی گئی تھی۔
      First published: