ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ہتک عزت کے دو معاملوں میں کیجریوال کو راحت،نتن گڈکری اورسبل نے قبول کیا معافی نامہ

دہلی سے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے معافی مانگنے کا اثرنظر آنے لگا ہے۔مرکزی وزیر نتن گڈکری اور وکیل امت سبل نے ان کی معافی قبول کر لی ہے۔اس کے ساتھ ہی کیجریوال ہتک عزت کے دو الزاموں سے بری ہو گئے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ہتک عزت کے دو معاملوں میں کیجریوال کو راحت،نتن گڈکری اورسبل نے قبول کیا معافی نامہ
دہلی سے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے معافی مانگنے کا اثرنظر آنے لگا ہے۔مرکزی وزیر نتن گڈکری اور وکیل امت سبل نے ان کی معافی قبول کر لی ہے۔اس کے ساتھ ہی کیجریوال ہتک عزت کے دو الزاموں سے بری ہو گئے۔

نئی دہلی۔دہلی سے وزیر اعلی اروند کیجریوال کے معافی مانگنے کا اثرنظر آنے لگا ہے۔مرکزی وزیر نتن گڈکری اور وکیل امت سبل نے ان کی معافی قبول کر لی ہے۔اس کے ساتھ ہی کیجریوال ہتک عزت کے دو الزاموں سے بری ہو گئے۔ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ثمر وشال نے امت سبل کے ذریعے کرائے گئے معاملے میں ملزم منیش سسودیا کو بھی بری کر دیا ہے۔سسودیا نے وکیل کو خط لکھ کرمعافی مانگی تھی۔


کورٹ نے کہا کہ دونوں معاملوں میں شکایت کرنے والو ں نے معافی قبول کر لی ہے۔جس کے چلتے دونوں کو بری کر دیا گیا ہے۔حالانکہ سبل نے وکییل پرشانت بھوشن اور بی جے  پی لیڈر شازیہ علمی کے خلاف بھی ہتک عزت کا معاملہ درج کرایا تھا۔دونوں کے خلاف کارروائی جاری رہیگی۔


کیجریوال نے معافی نامہ میں یہ لکھا

کیجریوال نے معافی کیلئے دو الگ۔الگ خط لکھے ۔انہوں نے لکھا کہ "انہیں بے بنیاد تبصرے کرنے کا افسوس ہے۔وہ قبول کرتے ہیں کہ یہ غیر موثر الزامات تھے"۔واضح ہو کہ امت سبل نے سال 2013 میں معاملہ درج کرایا تھا۔انہوںنے الزام لگایا تھا کہ کیجریوال ،سسودیا،بھوشن اور اس وقت کی عآپ کی ممبر رہیں شازیہ علمی نے معاملے میں انہیں اور ان کے والد کپل سبل کو نشانہ بنایا تھا۔

وہیں کیجریوال نے نتن گڈکری کو ہندستان کے سب سے بد عنوان لوگوں میں سےایک بتایاتھا۔جس کے چلتے گڈکری نے ان پر ہتک عزت کا کیس درج کیا تھا۔

بتادیں کہ تین دن پہلے اروند کیجریوال نے پنجاب کے اکالی دل بکرم سنگھ مجیٹھیا کو خط لکھ کر معافی طلب کی تھی۔کیجریوال کی معافی کے بعد پنجاب عام آدمی پارٹی کے کارکن اور ارکان ان سے ناراض ہو گئے تھے۔کئی ممبران نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔حالانکہ اتوار کی شام دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا کے گھر ہوئی میٹنگ کے بعد عآپ لیڈران نے پیر کو نتن گڈکری اور امت سبل سے معافی مانگی تھی۔

 کیوں معافی مانگ رہے ہیں کیجریوال

واضح ہو کہ کیجریوال کے خلاف ملک کی مختلف عدالتوں میں ہتک عزت کے 33 معاملے چل رہے ہیں۔اس سے ان کا زیادہ تر وقت کورٹ کے چکر لگانے میں گزرتا ہے اور وہ سی ایم کے طور پر اپنے کام اور پارٹی کے کام کیلئے وقت نہیں نکال پا رہے ہیں۔ایسے میں ان معاملوں سے باہر نکلنے کیلئے انہوں نے معافی مانگنے کا راستہ منتخبکیا ہے۔
First published: Mar 19, 2018 10:46 PM IST