உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعلی چننی نے اکالی دل پر جم کر سادھا نشانہ ، ایوان میں ہنگامہ ، ہاتھا پائی کی آئی نوبت

    وزیر اعلی چننی نے اکالی دل پر جم کر سادھا نشانہ، ایوان میں ہنگامہ، ہاتھا پائی کی آئی نوبت

    وزیر اعلی چننی نے اکالی دل پر جم کر سادھا نشانہ، ایوان میں ہنگامہ، ہاتھا پائی کی آئی نوبت

    Punjab Assembly Session: پنجاب اسمبلی سیشن کے دوران بی ایس ایف کے دائرہ اختیار پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چنی بی جے پی کی مرکزی حکومت اور شیرومنی اکالی دل کے تئیں جارحانہ نظر آئے ۔

    • Share this:
      چنڈی گڑھ : پنجاب اسمبلی سیشن کے دوران بی ایس ایف کے دائرہ اختیار پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چنی بی جے پی کی مرکزی حکومت اور شیرومنی اکالی دل کے تئیں جارحانہ نظر آئے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد سے مرکز کی بی جے پی سرکار نے ریاستوں کے وفاقی ڈھانچے میں مداخلت شروع کردی ہے ۔ مرکزی سرکار ریاست کے اختیارات کی خلاف ورزی کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب آرٹیکل 370 کو ہٹایا گیا تھا تو شیرومنی اکالی دل مرکزی حکومت کا حصہ تھی ۔

      چننی نے الزام لگایا کہ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے پر اکالی دل نے احتجاج نہیں کیا اور مرکزی حکومت نے ریاست کے اختیارات میں مداخلت شروع کردی ۔ وزیر اعلی نے اکالی دل کو غدار پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں آر ایس ایس اور بی جے پی کو کوئی بھی آنے نہیں دیتا جبکہ اکالی دل خود بی جے پی اور آر ایس ایس کو پنجاب میں لے کر آیا ۔ چننی نے آر ایس ایس کو پنجاب کا سب سے بڑا دشمن بھی کہا ۔

      وزیر اعلی نے اکالی دل پر پنجاب کے مفادات کے خلاف کام کرنے کیلئے بی جے پی کے ساتھ سازش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن کو پھٹکار لگائی ۔ وزیر اعلی چرنجیت سنگھ چننی نے ایوان کو یقین دلایا کہ سنویدیا کرمچاریوں کی سروس کو ریگولر کرنے کیلئے بل کے علاوہ بجلی کے پی پی اے ختم کرنے کا بل بھی لایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ایوان دیر رات تک چلتی رہے گی ۔

      وہیں اپوزیشن لیڈر ہرپال چیما نے کہا کہ سابق وزیر اعلی کیپٹن امریندر سنگھ نے سیکورٹی کے معاملات میں ریاست کو گمراہ کیا ہے ۔ اکالی دل کے ممبران اسمبلی نے زرعی قوانین سے متعلق آفیشیل تجویز پر پی سی سی سربراہ نوجوت سنگھ سدھو کی تقریر کو روک دیا ۔ اس درمیان سدھو اور اکالیوں کے درمیان زبانی جنگ شروع ہوگئی اور ایوان کو پندرہ منٹ کیلئے ملتوی کرنا پڑا ۔

      ہنگامہ کے بعد اسپیکر نے اکالی ممبران اسمبلی کو اپنے چیمبر میں بلاکر پرسکون کیا ۔ اس کے بعد پنجاب کانگریس کے صدر سدھو نے اسمبلی کے خاص سیشن کے بعد میڈیا کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج اسمبلی سیشن کا بہت اہم دن تھا ۔ ریاست کے سنجیدہ اور اہم معاملات پر ایوان میں بحث ہونی تھی ، لیکن اپوزیشن پارٹیوں نے جان بوجھ کر وہاں ہنگامہ کیا ۔

      پنجاب کے قرض پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اور اعداد و شمار بتاتے ہوئے سدھو نے کہا کہ پنجاب کبھی ملک کی نمبر ایک ریاست تھا ۔ پنجاب اب سب سے زیادہ قرض دار ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: